جہلم میں مصنوعی مہنگائی کا جن بے قابو، اشیائے خوردونوش کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں مصنوعی مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اشیائے خوردونوش کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں جبکہ ضلعی و تحصیل سطح پر انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

چینی 175 سے 180 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے جبکہ گندم کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود آٹے کے نرخ کم نہ ہو سکے۔ بیکری مالکان نے میدہ سستا ہونے کے باوجود مصنوعات کے نرخوں میں کوئی کمی نہیں کی۔

گرمیوں کے باوجود انڈے 305 روپے درجن اور برائلر مرغی کا گوشت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ روٹی کی قیمت میں بھی اضافہ متوقع ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی یہ 13 روپے کی بجائے 20 روپے میں فروخت ہونے لگے گی۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ منافع خور مافیا بشمول غلہ منڈی کے آڑھتی، پولٹری مالکان، قصاب، دودھ، پھل و سبزی فروشوں نے سرکاری نرخناموں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پیاز، آلو اور ٹماٹر جیسے عام استعمال کی سبزیاں، جو منڈی میں سستے داموں دستیاب ہیں، شہر میں مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔ موسمی سبزیاں اور پھل بھی بلا جواز مہنگے فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

شہریوں نے صوبائی حکومت اور بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری زراعت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گران فروشی کے مرتکب دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، مقدمات درج کیے جائیں اور سرکاری نرخوں پر اشیائے خورونوش کی فروخت کو یقینی بنایا جائے تاکہ مہنگائی کا جن قابو میں آ سکے اور عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button