جہلم میں سیلاب سے تباہی کی تفصیل سامنے آ گئی؛ 7 انسانی جانیں، سینکڑوں مکانات، کھڑی فصلیں اور مویشی متاثر

جہلم: حالیہ بارشوں سے آنے والے سیلابی ریلوں نے ضلع جہلم میں شدید تباہی مچائی، جس کی تفصیلات اسیسمینٹ کمیٹی نے مکمل کر کے ڈپٹی کمشنر سید محمد میثم عباس کو پیش کر دی ہیں۔

سیلابی نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے ڈپٹی کمشنر نے اے ڈی سی آر کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے سات روز کے اندر جامع رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ضلع جہلم کی تین تحصیلیں (پنڈ دادنخان، سوہاوہ اور جہلم) بارشوں اور سیلابی پانی سے شدید متاثر ہوئیں۔ قدرتی آفت کے نتیجے میں 7 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 41 دیہات کو مختلف سطح پر نقصان پہنچا۔ ان میں تحصیل سوہاوہ کے 9 اور تحصیل جہلم کے 32 دیہات شامل ہیں۔

سیلابی ریلوں نے ساڑھے پانچ ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ کر دیں جبکہ 234 مکانات جزوی طور پر اور 65 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔ اس کے علاوہ، 1300 سے زائد مویشی برساتی ریلوں میں بہہ گئے، جس سے کروڑوں روپے کا معاشی نقصان ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سیلاب کے باعث درجنوں دیہات کی رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئیں، اور داراپور پل مکمل طور پر بہہ گیا، جس سے آمدورفت کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔

ڈپٹی کمشنر سید محمد میثم عباس کی ہدایت پر فوری اقدامات کیے گئے، اور سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو حکومت پنجاب کی جانب سے 10،10 لاکھ روپے کے امدادی چیک فراہم کر دیے گئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں مزید اقدامات کے لیے رپورٹ حکومت پنجاب کو ارسال کر دی ہے، جبکہ بحالی کا عمل ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے۔ شہریوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مزید امدادی اور بحالی کے اقدامات میں بھی تیزی لائی جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button