پٹرولیم مصنوعات سستی نہ ہونے پر جہلم میں عوامی حلقوں کی تشویش، حکومتی فیصلے پر کڑی تنقید

جہلم شہر کی سماجی، رفاہی، فلاحی، شہری اور مذہبی تنظیموں کے رہنماؤں نے عالمی منڈی میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت کی جانب سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام دشمن اقدام قرار دیا ہے۔

تنظیموں کے عمائدین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ چکی ہے، لیکن اس کا فائدہ پاکستان کے عوام تک منتقل نہیں کیا جا رہا۔ ان کے بقول عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں جبکہ پاکستان میں قیمتیں بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں، جو عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتوں کو مزید ایک ہفتے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ عوام کے لیے شدید مایوسی کا باعث بنا ہے۔ ان کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے گر گئیں، مگر اس کے باوجود ملکی سطح پر عوام کو کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔

عمائدین کا کہنا تھا کہ جب عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو مقامی سطح پر فوری طور پر قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں، لیکن جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ عوام تک منتقل کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے عام شہری، ٹرانسپورٹ کا شعبہ، صنعت اور کاروباری طبقہ مسلسل مالی دباؤ کا شکار رہتا ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے تناسب سے ملک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے تاکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام آئے اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button