بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام؛ دوہری پالیسی پر عوام کا سوال، دیہی مراکز صحت زچہ و بچہ مالی امداد سے محروم کیوں؟

سوہاوہ/پڑی درویزہ: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت زچہ بچہ اور کمزور بچوں کی صحت کے لیے جاری مالی امداد میں دیہی و شہری طبقات میں فرق روا رکھا جا رہا ہے، جس پر عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں زیر علاج خواتین کو مالی امداد اور خوراک کی فراہمی جاری ہے، لیکن بنیادی اور دیہی مراکز صحت (RHCs، BHUs) اس سہولت سے مکمل طور پر محروم ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شہید کے وژن کے تحت قائم کردہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت اس وقت پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں "نشو و نما” نامی غیر سرکاری ادارے کے تعاون سے زچہ و بچہ کے مریضوں کو مالی امداد اور متوازن خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم یونین کونسل سطح پر قائم بنیادی و دیہی مراکز صحت میں یہ سہولت تاحال دستیاب نہیں، جو کہ ایک غیر مساوی اور امتیازی رویہ سمجھا جا رہا ہے۔

عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی "آؤٹ سورسنگ پالیسی” کے تحت پہلے ہی کئی بنیادی مراکز صحت پرائیویٹ اداروں کے سپرد کیے جا چکے ہیں، جنہیں "مریم کلینکس” کا نام دیا گیا ہے۔ دوسری طرف BISP کے تحت شہری ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی جاری ہے، لیکن دیہی علاقوں کو اس سے محروم رکھنا، غریب عوام کے ساتھ زیادتی اور پیپلز پارٹی کی مساوات پر مبنی پالیسیوں کے منافی عمل ہے۔

عوامی نمائندوں اور سماجی تنظیموں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن محترمہ ثمینہ گھرکی سے مطالبہ کیا ہے کہ "نشو و نما” پروگرام کی سہولیات کو بلا تفریق تمام علاقوں تک توسیع دی جائے تاکہ دیہی اور شہری علاقوں کے عوام کو یکساں سہولت میسر آ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ برابری کی بنیاد پر فیصلوں کی حامی رہی ہے، لہٰذا ایسی دوہری پالیسی فوری ختم کی جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button