مہنگائی کا بڑا طوفان آنے لگا، عوام تیار ہو جائیں

حکومت نے فنانس بل کی منظوری کے ساتھ متعدد اشیاء پر ٹیکس استثنیٰ ختم کر دیا ہے، جس سے آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح میں 10 فیصد سے زائد اضافے کا امکان ہے۔

پیک آٹے، چاول، دالوں اور مصالحہ جات سمیت غذائی اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔

ٹیکس نیٹ میں اضافے کی کوششیں

تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بھاری جرمانے اور دکانیں سیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت نے پولٹری، مویشیوں کی خوراک، سورج مکھی کے بیج، ریپ سیڈ اور کینولہ سیڈ کی مقامی سپلائی پر بھی 10 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔

تنخواہ دار طبقے اور اشیاء پر مزید ٹیکس

تنخواہ دار طبقے پر بھی ٹیکس میں اضافہ برقرار رہے گا۔ کتابوں کے علاوہ اسٹیشنری پر 10 فیصد، موبائل فونز پر 18 فیصد جبکہ سمارٹ فونز پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

دیگر ٹیکسز

پٹرولیم لیوی میں فی لیٹر 10 روپے اضافہ کیا گیا ہے۔ جائیداد اور شیئرز کی فروخت پر 15 فیصد گینز ٹیکس جبکہ ریئل اسٹیٹ پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔ 1 کروڑ روپے سالانہ آمدن پر انکم ٹیکس رقم پر مزید 10 فیصد سرچارج عائد ہوگا۔

اضافی ٹیکسز اور ڈیوٹیز

فارم ہاؤسز پر کیپٹل ویلیو ٹیکس، لگژری گاڑیوں پر قیمت کے حساب سے ٹیکس اور فضائی سفر پر بھی ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

فنانس بل کی منظوری کے بعد مختلف اشیاء پر ٹیکس استثنیٰ ختم ہونے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے عوام پر مزید بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔

Exit mobile version