جہلم میں آوارہ اور بیمار کتوں کی بھرمار، شہریوں کی زندگی اجیرن

جہلم: میونسپل کمیٹی جہلم کی انتظامیہ کی مبینہ عدم توجہی اور عوامی مسائل سے چشم پوشی کے باعث شہر اور گردونواح کے مختلف علاقوں میں آوارہ، بیمار اور خارش زدہ کتوں کی بھرمار شہریوں کے لیے سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر کے متعدد گنجان آباد علاقوں، بالخصوص محمدی چوک، اسلام پورہ، کیملا، جنرل بس اسٹینڈ، بلال ٹاؤن، چونترہ، کھرالہ، جادہ، مخدوم آباد اور کالا گجراں سمیت دیگر مقامات پر آوارہ کتوں کے غول کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔ شہریوں کے مطابق ان کتوں کی موجودگی سے نہ صرف راہگیروں کو خطرات لاحق ہیں بلکہ بعض مقامات پر کتے سڑکوں کے درمیان بیٹھ جاتے ہیں، جس سے ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوتی ہے۔

جہلم شہر کی گلیوں، محلوں اور سڑکوں پر آوارہ کتوں کے غول آزادانہ گھومتے دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث بالخصوص شام کے بعد گھروں سے باہر نکلنے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صورتِ حال کے باعث خواتین، بچوں اور مساجد جانے والے نمازیوں کے لیے گھروں سے نکلنا بھی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ آوارہ اور خارش زدہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ کتوں کے غول کے خوف سے معصوم بچوں نے گلیوں میں کھیلنا کودنا چھوڑ دیا ہے، جبکہ خواتین کو روزمرہ امور کی انجام دہی کے لیے باہر نکلتے وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بزرگ شہریوں اور نمازیوں کے لیے بھی صورتِ حال تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے، خصوصاً صبح نمازِ فجر اور رات نمازِ عشا کے اوقات میں مساجد آنے جانے والوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں آوارہ کتوں کے کاٹنے اور حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو مزید ناخوشگوار واقعات پیش آنے کا خدشہ ہے۔

عوامی و سماجی حلقوں نے چیف آفیسر میونسپل کمیٹی جہلم اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتِ حال کا فوری نوٹس لیا جائے اور شہر بھر میں آوارہ کتوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں خصوصی کارروائی کی جائے، بیمار اور خارش زدہ کتوں کے حوالے سے مناسب اقدامات کیے جائیں اور شہریوں، خصوصاً بچوں، خواتین اور بزرگوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔

شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کے حکام سے اپیل کی ہے کہ اس اہم عوامی مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ شہری بلاخوف و خطر اپنی روزمرہ سرگرمیاں جاری رکھ سکیں اور آوارہ کتوں کے حملوں سے محفوظ رہیں۔

↑
Exit mobile version