جہلم کے اندرون شہر واقع اہلحدیث چوک چاروں اطراف سے تجاوزات کی لپیٹ میں آ گیا، جس کے باعث خواتین، بچوں، بچیوں اور بزرگوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پیدل چلنے والوں کے لیے راستے تنگ ہونے سے شہریوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ مختلف مقامات پر قائم غیر قانونی اسٹینڈز اور دیگر رکاوٹوں کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر کے بازاروں، چوک چوراہوں، سڑکوں اور گلی محلوں کو تجاوزات سے پاک بنانے کے لیے میونسپل کمیٹی کے شعبۂ انسدادِ تجاوزات اور پیرا فورس کی جانب سے مؤثر اقدامات اور مستقل نگرانی کی ضرورت ہے، تاہم اندرونِ شہر متعدد مقامات پر شہریوں کو تاحال تجاوزات کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
شہریوں کے مطابق مختلف مقامات پر غیر قانونی ویگن اور رکشہ اسٹینڈز قائم ہیں، جبکہ ریڑھی بانوں اور دکانداروں کی جانب سے جگہ جگہ سامان رکھنے کے باعث پیدل چلنے والوں کے لیے گزرنے کی جگہ محدود ہو گئی ہے۔ بعض مقامات پر گھروں اور دکانوں کے سامنے کئی کئی فٹ تک پھیلی ہوئی سیڑھیاں اور ریمپ بھی راستوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جس سے شہریوں کو آمدورفت کے دوران دشواری پیش آتی ہے۔
اہلحدیث چوک کے اطراف تجاوزات کی صورتحال کے باعث بالخصوص خواتین، بچوں، بچیوں اور بزرگوں کو گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ راستوں پر غیر ضروری رکاوٹوں کے باعث پیدل چلنے والوں کو سڑک پر آنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جس سے ٹریفک کے درمیان حادثات کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائی اور مستقل نگرانی نہ ہونے کے باعث عوامی مشکلات میں کمی نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق شہر کے اہم چوکوں، بازاروں اور گزرگاہوں کو تجاوزات سے پاک رکھنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے تاکہ شہریوں کو بلا رکاوٹ آمدورفت کی سہولت میسر آ سکے۔
شہری و سماجی تنظیموں کے عمائدین نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ اہلحدیث چوک سمیت اندرونِ شہر کے تمام متاثرہ مقامات کا فوری معائنہ کروایا جائے، غیر قانونی ویگن اور رکشہ اسٹینڈز سمیت دیگر تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے اور پیدل چلنے والوں کے لیے راستے بحال کیے جائیں۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں، تاکہ شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر ہو، شہریوں کی مشکلات کم ہوں اور خواتین، بچوں، بزرگوں سمیت تمام افراد محفوظ اور آسانی کے ساتھ آمدورفت جاری رکھ سکیں۔
