ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی کی تعیناتی کا پہلا ماہ، متحرک ایڈمنسٹریٹر کے طور پر فعال

جہلم: ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی کی تعیناتی کا پہلا ماہ، متحرک ایڈمنسٹریٹر کے طور پر فعال، شہریوں کو بہتری اور مسائل کے حل کی امیدیں لگ گئی۔ ضلع جہلم کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر سیدہ رملہ علی نے اپنی تعیناتی کے پہلے ماہ میں ہی متحرک ایڈمنسٹریٹر کے طور پر شناخت بنا لی ہے۔

ڈپٹی کمشنر سیدہ رملہ علی نے پہلے ماہ میں ہی پورے ضلع کے اہم مسائل کو حل کرنے اور عوامی ریلیف کیلئے اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے شعبہ صحت میں ہسپتالوں کی بہتری ہو یا طبی سہولیات کی فراہمی، نئے ڈاکٹرز کی تعیناتی ہو یا مریضوں سے رابطہ، ہر جگہ ڈپٹی کمشنر سیدہ رملہ علی فرنٹ لائن پر کام کرتی نظر آتی ہیں۔

تعلیمی شعبہ، ریونیو، ترقیاتی منصوبوں کے جاری منصوبہ جات کی تکمیل کی ذاتی اور مسلسل نگرانی کے باعث تیزی سے کام جاری ہے آئندہ مالی سال کے دوران اربوں روپے کے عوامی منصوبوں کی نشاندہی اور ان کی منظور ی کے لیے صوبائی حکومت کو بھجوایا گیا۔

صرف ایک ماہ کے دوران معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ رابطہ، موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مناسب اقدامات، سگھر پور کشتی حادثے کے بعد لواحقین کی داد رسی، کشتی بانوں کی تربیت، حفاظتی اقدامات، ٹی ایچ کیو پی ڈی خان کی بحالی و بہتری کے اقدامات، عوامی شکایت پر سیوریج، واٹر سپلائی، ڈسپوزل اسٹیشن کی تعمیر اور خاص طور پر عید الاضحی کے موقع پر صفائی اور آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے بڑے چیلنج کو پورا کرکے پنجاب بھر میں اعلی پوزیشن حاصل کرنے میں بلاشبہ ڈپٹی کمشنر سیدہ رملہ علی کی عید کے تینوں دن فجر سے رات گئے تک فیلڈ میں موجودگی کا سب سے اہم کردار ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے جس طرح فرنٹ لائن پر شدید گرمی میں دن رات مسلسل کام کیا بلاشبہ آنے والے دنوں میں وہ ضلع جہلم کے اہم مسائل کو حل کرنے کی جانب ایک امید بخش صورتحال ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button