کھیوڑہ میں مسلح ڈاکو پولیس اہلکار بن کر شہری سے اسلحہ کی نوک پر چار بھینسیں لے اُڑے

پنڈدادنخان: کھیوڑہ میں تین مسلح ڈاکو پولیس اہلکار بن کر واردات کر گئے، اسلحہ کی نوک پر چار بھینسیں لے کر فرار ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم کے دوسرے بڑے شہر کھیوڑہ میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک ہفتے کے اندر مسلح ڈکیتی کی یہ دوسری بڑی واردات ہے، جس میں تین نامعلوم افراد نے پولیس اہلکاروں کا روپ دھار کر شہری کے گھر داخل ہو کر اسلحہ کے زور پر چار قیمتی بھینسیں چرا لیں اور گاڑی میں ڈال کر فرار ہو گئے۔

کھیوڑہ کی کچی آبادی نزد قبرستان میں رات تقریباً ایک بجے تین نامعلوم مسلح افراد سول کپڑوں میں محمد عمر کے گھر پہنچے اور خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں چوری کی واردات ہوئی ہے اور وہ تفتیش کے لیے آئے ہیں۔ ملزمان میں سے ایک شخص محمد عمر کے ساتھ بیٹھ گیا جبکہ دیگر دو افراد نے گھر کے باہر بندھی ہوئی بھینسوں کو کھولا، گاڑی میں لوڈ کیا اور فرار ہو گئے۔ روانگی سے قبل دروازہ باہر سے بند کر دیا گیا۔

متاثرہ شہری محمد عمر نے دروازہ توڑ کر اہل خانہ کو اطلاع دی اور فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا، تاہم پولیس نے حسب روایت سستی اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاخیر سے اطلاع ملنے کا بہانہ بنا کر کارروائی سے گریز کیا۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ بروقت اطلاع ملتی تو ناکہ بندی کر کے ملزمان کو پکڑا جا سکتا تھا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں وارداتیں تسلسل کے ساتھ ہو رہی ہیں اور پولیس مکمل طور پر بے بس نظر آتی ہے۔ صرف دو روز قبل بھی ایک شہری سے شام کے وقت نقدی اور موبائل چھین لیا گیا تھا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس مزید بڑھ گیا ہے۔

عوامی و سماجی حلقوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وردی کے بغیر گشت کرنے پر پابندی عائد کی جائے، پولیس اہلکاروں کو یونیفارم میں رہنے کا سختی سے حکم دیا جائے اور کھیوڑہ پولیس چوکی میں فرض شناس اور قابل عملہ تعینات کیا جائے تاکہ جرائم کی مؤثر روک تھام ممکن ہو اور شہریوں کو دوبارہ پرامن ماحول میسر آ سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button