پاکستانیوں کیلئے امارات کا وزٹ ویزہ حاصل کرنے کا آسان طریقہ

دبئی: پاکستانیوں کیلئے متحدہ عرب امارات کا وزٹ ویزہ حاصل کرنے کا آسان طریقہ سامنے آگیا۔

خلیج ٹائمز کے مطابق پاکستان، بھارت اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے بہت سے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی طرف سے وزٹ ویزہ مسترد کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تاہم ڈمی ہوٹل کی بکنگ اور ریٹرن فلائٹ ٹکٹس نہ ہونے کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے کچھ وزٹ ویزہ مسترد ہو سکتے ہیں، اس صورتحال میں ان ممالک کے شہریوں پر خاص طور پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ وزٹ ویزہ کی منظوری کے امکانات کو بڑھانے کے لیے ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے انٹری پرمٹ کے حصول کے لیے درخواست دیں۔

ٹریول انڈسٹری کے ایگزیکٹوز کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وزٹ ویزے مسترد کیے جانے کی وجہ درخواست دہندگان کے قانونی تقاضوں جیسے کہ واپسی کے ٹکٹ، ہوٹل کی بکنگ اور فنڈز کا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ہے جب کہ متحدہ عرب امارات کے امیگریشن حکام نے یہاں آنے والے تمام وزٹ ویزہ ہولڈرز کے لیے ضروری قرار دیا ہے کہ وہ سیاحتی ویزے کی میعاد ختم ہونے سے پہلے درکار رقم، ہوٹل میں بکنگ یا رہائش کا ثبوت اور واپسی کا ہوائی ٹکٹ اپنے ساتھ رکھیں۔

اسی حوالے سے مسافر ڈاٹ کام کے ایک اعلیٰ عہدیدار رکین شیٹھ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات یہاں آنے کے لیے ایک آسان ملک ہے کیوں کہ پابندیاں کافی کم ہیں، سیاحتی ویزوں کے مسترد ہونے کے حوالے سے بہت خوفزدہ کیا گیا ہے لیکن اگر کوئی حقیقی سیاح مختصر چھٹی کے لیے دبئی آنا چاہتا ہے تو اسے حقیقی دستاویزات جمع کرانا ہوں گی اور کوئی ویزہ مسترد نہیں ہوگا، تاہم بہت سے لوگ متحدہ عرب امارات میں آتے ہیں اور سرگرمی سے نوکریوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور یو اے ای کی حکومت ان دو کیٹیگریز کو الگ کرنا چاہتی ہے اس لیے وہ چاہتی ہے حقیقی سیاح آئیں، اس خوبصورت ملک کو دیکھیں اور وزٹ ویزہ کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ملک سے چلے جائیں۔

بتایا گیا ہے کہ ہر سال لاکھوں سیاح متحدہ عرب امارات آتے ہیں جن میں سے زیادہ تر دبئی کا رخ کرتے ہیں، جنوری سے جولائی 2024ء کے دوران دبئی نے 10.62 ملین سیاحوں کا خیرمقدم کیا، ملک میں آنے والے سیاحوں کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات اور دنیا بھر کے دیگر ترقی یافتہ ممالک نے کچھ قانونی تقاضے رکھے ہیں جنہیں سیاحوں کو ملک کے وزٹ ویزے کے حصول کے لیے پورا کرنا پڑتا ہے۔

عرب ورلڈ ٹورازم کے آپریشنز مینیجر شیراس شرف نے بتایا کہ ویزہ مسترد ہونے کی بنیادی وجہ ڈمی فلائٹ اور ہوٹل بکنگ فراہم کرنا ہے جو ویزہ کے عمل کے دوران تصدیقی چیک میں جعلی ثابت ہوجاتی ہیں، نامکمل یا لاپتہ معاون دستاویزات، جیسے فنڈز کا ثبوت، تصدیق شدہ سفری پروگرام یا درست رہائش کی تفصیلات بھی ویزہ مسترد ہونے کی وجوہات ہیں، حکام ان درخواست دہندگان کے خلاف تیزی سے چوکس ہو رہے ہیں جو اپنے ویزوں سے زیادہ قیام کا خطرہ پیدا کرسکتے ہیں، اس لیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس اپنا درست ریٹرن ٹکٹ، رہائش کا ثبوت (چاہے ہوٹل میں قیام ہو یا کسی رشتہ دار کی جگہ) اور آپ کے پاس درکار رقم بھی ہونی چاہیئے۔

رکین شیٹھ نے متحدہ عرب امارات آنے کے خواہشمند سیاحوں کو مشورہ دیا کہ وہ کسی ایسی ٹریول ایجنسی سے رجوع کریں جو مشہور ہو، وہ امارات میں ویزہ اور امیگریشن خدمات سے متعلق درست معلومات دینے کے قابل ہو کیوں کہ اماراتی حکام اب ٹریول ایجنسیوں سے توقع کرتے ہیں کہ فنڈز کے ثبوت کے ساتھ سیاحوں کے حقیقی ہوٹل بکنگ یا کرایہ داری کے معاہدے کو یقینی بنائیں، اسی لیے اب ٹریول ایجنسیاں لوگوں کو تعلیم دے رہی ہیں کہ انہیں ہوٹل کی حقیقی رہائش اور پرواز کی تفصیلات منسلک کرنے کی ضرورت ہے، اگر آپ امیگریشن سسٹم کو حقیقی دستاویزات فراہم کرتے ہیں تو حکام درخواستوں کو کیوں مسترد کریں گے؟۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button