جہلم شہر اور تینوں تحصیلوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قسط کے پیسے آتے ہی مافیاز سر گرم ہو جاتے ہیں جس میں ریٹیلرز سے لے کر بڑے بڑے مگر مچھ شامل ہوتے ہیں۔ خواتین کی تذلیل کا سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا، صبح ہوتے ہی بوڑھی خواتین پیسے لینے کے لیے لائنوں میں لگ جاتی ہیں جو کہ سارا سارا دن ریٹیلروں کو دی ہوئی جگہوں کے سامنے اپنی بے بسی کا رونا روتی دکھائی دیتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم سمیت ضلع بھر میں اتنی مہنگائی میں غریب اپنے حق سے بھی محروم نظر آ رہے ہیں اس کی وجہ بے قابو مافیاز ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ کے ریٹیلر ز سادہ لوح عورتوں کو دونوں ہاتھوں سے متعلقہ افسران کی سرپرستی میں لوٹنے میں مصروف ہیں جبکہ افسران بالا خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف ہیں۔
ذرائع کے مطابق جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں بینظیر انکم سپورٹ کے ریٹیلرز نے اپنے ٹاؤٹ رکھے ہوئے ہیں اور سادہ لوح غریب خواتین سے 500 سوروپے سے 1500 سو روپے لے کر ان سادہ لوح غریب خواتین کو باقی رقم تھما دی جاتی ہے جو پیسے نہ دیں ان خواتین کو اپنی بنائی ہوئی جگہوں پر چکر لگواتے ہیں یا پھر انہیں دوبارہ آنے کا کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے ۔ دوسری جانب خواتین کی تذلیل کرنا بھی ریٹیلرز کا روزانہ کا معمول بن چکاہے ۔
شہرکی مذہبی ، سماجی ، رفاعی ، فلاحی و شہری تنظیموں کے عمائدین نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری ،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے موجودہ صورتحال کا سختی سے نوٹس لینے اور ان مافیاز کو لگام ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غریب، لاچار اور نادار خواتین کا خون چوسنے سے باز رہ سکیں ۔
