پیار کے جھانسے میں لٹنے والے مردوں کی تعداد میں اضافہ

لندن: پیار کے جھانسے میں آکر لٹنے والے مردوں کی تعداد میں2022ء اور23ء کے درمیان40فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس بات کا انکشاف 14فروری کو ویلنٹائن ڈے سے قبل جاری ایک رپورٹ میں کیا گیا ۔
رپورٹ کے مطابق پیار کے جھانسہ میں آکر اپنی رقم سے محروم ہونے والی خواتین کی تعداد میں2فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ نیشن وائیڈ بلڈنگ سوسائٹی کے مطابق2023ء میں پیار کے جھانسے میں آکر20فیصد یعنی ہر پانچ میں سے ایک شخص جسے لوٹا گیا اس کی عمر20سے30سال کے درمیان تھی۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین کے لٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس خواتین اوسطاً10 اعشاریہ 610 پاؤنڈ اور مرد 8 اعشاریہ 181 پاؤنڈ سے محروم ہوئے،بلڈنگ سوسائٹی نے صارفین سے کہا کہ کسی بھی ایسی ادائیگی سے پہلے جن کے بارے میں انہیں شبہ ہو وہ سوسائٹی کی چیکر سروس استعمال کریں۔ سوسائٹی نے کہا کہ وہ لٹنے والے افراد کی رقم دلانے میں تعاون کرے گی۔ سوائے اس صورت میں کہ سوسائٹی نے ادائیگی سے منع کیا ہو۔
نیشن وائیڈ کے ڈائریکٹر آف اکنامکس کرائم جم ونٹر نے کہا کہ رومینس کرائم میں ملوث افراد محبت کی تلاش میں سرگرداں افراد کو میٹھی باتیں کرکے بڑی چالاکی سے بے وقوف بناتے ہیں۔ ہمارے اعدادو شمار کے مطابق جھوٹی محبت کے جھانسے میں ہر عمر کے افراد آتے ہیں۔ سوسائٹی کی طرف سے دی گئی ایک مثال کے مطابق ایک گاہک کی سوشل میڈیا کے ذریعے دوسرے شخص سے ملاقات ہوئی جس نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکہ کی فوج میں خدمات سرانجام دے رہا ہے اور اس نے انتہائی مہنگے تحائف بھیجے ہیں۔
گاہک کو بتایا گیا کہ تحائف وصول کرنے کیلئے ٹیکس اور کسٹم کی ادائیگی کیلئے رقم ادا کرنی ہوگی لیکن جب گاہک نے سات ہزار پاؤنڈ کی رقم بھیجی تو ’’کوریئر‘‘ نے بتایا کہ تحائف کو پولیس نے ضبط کرلیا ہے اور انہیں مزید رقم درکار ہے۔ خاندان کے ایک فرد نے اس فراڈ کی اطلاع پولیس کو دی۔
سوسائٹی کی برانچ پر جانے کے بعد گاہک کو احساس ہوا کہ اس کے ساتھ فراڈ ہوا ہے، اسے ادا کی گئی رقم واپس کردی گئی۔ سوسائٹی نے انتباہ کیا کہ فراڈ کرنے والے ای میل، فون کال یا ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے رابطہ کرسکتے ہیں۔



