نشتر سٹوڈنٹ کے عہدیداران اور ارکان فلاحی منصوبوں کے لیے متحرک ہیں، ڈاکٹر شفقت بخاری، امجد شاد

مانچسٹر: برطانیہ میں 40برس قبل قائم ہونے والی نشتر اسٹوڈنٹ تنظیم جس کی نشترمیڈیکل کالج کے فارغ التحصیل طالب علموں نے بنیاد رکھی تھی، اب تک پاکستان میں مجموعی طو رپر تقریبا کروڑوں روپے مالیت سے زائد کے فلاحی منصوبہ جات پایہ تکمیل تک پہنچا چکی ہے۔
ان خیالات کا اظہار تنظیم کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شفقت بخاری نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وارڈز کی تعمیر سے لے کر ادویات، تربیتی کیمپس اور دیگر منصوبوں کیلئے نشتر اسٹوڈنٹ کے کارناموں سے تاریخ بھری پڑی ہے، انسانیت کی خدمت کیلئے تنظیم کا ہر عہدیداراوررکن اپنی استطاعت اورخداداد صلاحیتوں کے مطابق فلاحی منصوبوں کیلئے متحرک کردار نبھا رہا ہے۔
انہو ں نے کہا کہ پاکستان میں عملہ کی تربیت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں چلڈرن وارڈز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، پانچ ہزار سے زائد بچوں کے مفت ڈائیلیسز کرائے جا چکے ہیں2ہزار260سے زائد (Corneal) ٹرانسپلانٹ کرائے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک ٹرانسپلانٹ کی کم ا ز کم لاگت ایک لاکھ روپے آتی ہے ، نیوروسرجری کے شعبہ کی اَپ گریڈیشن اگلے منصوبہ جات میں سرفہرست ہے، یورولوجی ڈپارٹمنٹ کو دنیا کی جدید ترین مشینری سے مریضوں کا مفت علاج کرایا جا رہا ہے ، تنظیم کی طرف سے ڈاکٹرز کی تربیت کیلئے مختلف ورکشاپس کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر تنظیم کے صدر امجد شاد نے اظہار خیالات کرتے ہوئے کہا کہ نشتر ہسپتال میں مشینری کو اَپ گریڈ کرنے، طالبعلموں کو جدید علوم کی فراہمی اورہر ممکن سہولیات کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات منصوبہ بندی میں شامل ہیں جن پر بتدریج کام کیا جا رہاہے۔
علاوہ ازیں صدر امجد شاد کی زیر صدارت نشتر سٹوڈنٹ تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ڈاکٹرز کی تربیت سمیت دیگر فلاحی منصوبوں پر تجاویز پر تبادلہ خیالات ہوا ۔
اجلا س کا بنیادی مقصد پاکستان میں ڈاکٹرز کی جدید تربیت، روم کانفرنسز سمیت دیگر اقدامات کیلئے حکمت عملی مرتب کرنا تھا۔


