جہلم کے گلی محلوں اور مضافاتی علاقوں میں قائم زچہ بچہ سنٹر’ زچہ بچہ کی جانوں کیلئے خطرہ بن گئے

جہلم شہر اور گردو نواح کے گلی محلوں اور مضافاتی علاقوں میں قائم زچہ بچہ سنٹر’ زچہ بچہ کی جانوں کیلئے خطرہ بن گئے۔ نان کوالیفائیڈ نرسز اور دائیوں نے زچہ بچہ میں موت بانٹنا شروع کردی، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور مقامی انتظامیہ کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر سمیت ضلع بھر کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کے گلی محلوں میں غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ ہسپتالوں، کلینکس اور گھروں میں زچہ بچہ سنٹر انسانی زندگیوں کے لئے خطرہ بن گئے ۔ نان کوالیفائیڈ نرسز اور دائیوں نے موت بانٹنا شروع کررکھی ہے، عطائیوں نے وٹس ایپ گروپ بنا رکھے ہیں اور مقامی افراد کے ساتھ رابطہ میں رہتے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ جہلم شہر سمیت ضلع بھر کے دیہاتوں میں غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ ہسپتال کلینکس اور گائنی سنٹر کھول رکھے ہیں جہاں نان کوالیفائیڈ نرسز چھوٹے بڑے آپریشن کرکے خواتین کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں اور ان غیر قانونی زچہ بچہ سنٹرز میں دوران زچگی کئی خواتین اورنومولود بچوں کی اموات ہو جاتی ہیں۔
شہریوں نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف ، صوبائی وزیر صحت، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری صحت سے نوٹس لینے اور عطائیت کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔



