پنجاب پولیس کیلئے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی،گاڑیوں اور پٹرول کے نئے قواعد نافذ

جہلم: پنجاب حکومت نے پولیس فورس کے لیے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی 2026 نافذ کر دی ہے.

نئی پالیسی کے تحت پولیس افسران کو سرکاری گاڑیوں اور پٹرول کی فراہمی کے لیے نئے قواعد و ضوابط متعارف کرا دیے گئے ہیں۔ پالیسی کے تحت اضافی سرکاری گاڑیاں واپس لینے اور مختلف منصوبوں پر استعمال ہونے والی گاڑیوں کو متعلقہ محکموں کے حوالے کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ ٹرانسپورٹ نے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی پر فوری عملدرآمد کے لیے مراسلہ جاری کرتے ہوئے ایس ایس پی ایم ٹی پنجاب سمیت تمام متعلقہ افسران کو نئی ہدایات پر عمل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

پالیسی کے مطابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب کو سرکاری استعمال کے لیے 2800 سی سی کی ایک گاڑی اور 500 لیٹر پٹرول فراہم کیا جائے گا، جبکہ بین الاضلاعی اور سرکاری دوروں کے لیے وہ 4700 سی سی کی گاڑی استعمال کر سکیں گے اور دورے کی نوعیت کے مطابق اضافی پٹرول بھی حاصل کر سکیں گے۔ ذاتی استعمال کے لیے آئی جی پنجاب کو 1800 سی سی کی ایک گاڑی اور 300 لیٹر پٹرول مختص کیا گیا ہے۔

اسی طرح ایڈیشنل آئی جی (گریڈ 21) کو ذاتی استعمال کے لیے 1800 سی سی گاڑی اور 250 لیٹر پٹرول فراہم کیا جائے گا، جبکہ سرکاری دوروں کے لیے 2800 سی سی کی گاڑی دستیاب ہوگی۔

پالیسی کے تحت ڈی آئی جیز (گریڈ 20) کو 1500 سی سی سرکاری گاڑی اور 250 لیٹر پٹرول دیا جائے گا، جبکہ ریجنل پولیس آفیسرز (آر پی اوز)، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز (ڈی پی اوز)، سینئر سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ایس ایس پیز)، سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ایس پیز) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ڈی ایس پیز) کو بھی ان کے گریڈ اور ذمہ داریوں کے مطابق سرکاری گاڑیاں اور محکمہ خزانہ کی منظور شدہ پٹرول کی مقدار فراہم کی جائے گی۔

مراسلے کے مطابق گریڈ 18 کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کو 1500 سی سی کی سرکاری گاڑی اور 200 لیٹر پٹرول فراہم کیا جائے گا۔

حکومت پنجاب نے تمام پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ ان کے زیر استعمال اضافی سرکاری گاڑیاں فوری طور پر واپس کی جائیں، جبکہ پولیس کے مختلف منصوبوں پر استعمال ہونے والی گاڑیوں کو بھی متعلقہ محکموں کے سپرد کیا جائے۔ نئی پالیسی کے تحت پٹرول کے استعمال کی حدود بھی واضح طور پر مقرر کر دی گئی ہیں تاکہ سرکاری وسائل کے مؤثر، شفاف اور کفایت شعاری پر مبنی استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button