50 ہزار کے بجٹ میں بہترین موبائل فونز کی فہرست سامنے آ گئی

پاکستان میں موبائل فونز اب ایک لگژری بن چکے ہیں اور حالیہ ٹیکسز کی بدولت قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں تاہم اگر آپ آج بھی 50 ہزار تک کے بجٹ میں موبائل فون خریدنا چاہتے ہیں تو آپ کیلئے چوائس کو آسان بناتے ہوئے چند موبائل فونز کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جنہیں یقینی طور پر خریدنے کے بعد آپ پچھتائیں گے نہیں ۔
انفینکس نوٹ 30

اس فہرست میں سب سے پہلا موبائل انفینکس نوٹ 30 ہے جس کی قیمت 41 ہزار روپے رکھی گئی ہے ، اس میں 6 اعشاریہ 78 انچ کی آئی پی ایس ایل سی ڈی ڈسپلے دیا گیاہے ، اس میں 8 جی بی ریم دی گئی ہے جو کہ موبائل فنکنشز کو بے حد تیز بناتی ہے ، ساتھ ہی تصاویر اور ویڈیوز کیلئے بڑی256 جی بی کی بڑی میمری فراہم کی گئی ہے ۔ یادگاری تصاویر کیلئے 64 میگا پگسلز کا زبردست کیمرہ نصب ہے جبکہ کبھی نہ ختم ہونے والی 5 ہزار ایم اے ایچ کی بڑی بیٹری موبائل کی کارکردگی کو چار چاند لگا دیتی ہے ۔
شاؤمی ریڈمی نوٹ 13

دوسرے نمبر پر شاؤمی ریڈمی نوٹ 13 ہے اس میں 6 اعشاریہ 67 انچ کا بڑا ڈسپلے دیا گیاہے جبکہ یہ دو6 جی بی اور 8 جی بی ریم کے ساتھ دو ویرینٹس میں دستیاب ہے اور میمری کیلئے ایک ٹی بی تک آپشنز موجود ہیں ۔ اس موبائل میں 108 میگا پگسلز کا ریئر کیمرہ دیا گیاہے ، 5 ہزار ایم اے ایچ کی بیٹری نصب کی گئی ہے جبکہ یہ موبائل آپ کو 46 ہزار روپے میں مل سکتا ہے ۔
ویوو وائے 27 ایس

ویوو کا یہ ماڈل کچھ عرصہ قبل ہی متعارف کروایا گیاہے جس کی قیمت 41 ہزار روپے رکھی گئی ہے جبکہ اس میں 6 اعشاریہ 64 انچ کا ایف ایچ ڈی پلس ڈسپلے دیا گیاہے ، موبائل میں 8 جی بی ریم اور 128 جی بی روم نصب کی گئی ہے ، ساتھ 5 ہزار ایم اے ایچ کی بیٹری اور 50 میگا پگسلز کا کیمرہ دیا گیاہے ۔
ویوو وائے 22

اس موبائل کی قیمت 60 ہزار سے کم ہو کر 45 ہزار روپے تک آ گئی ہے جس میں 6 اعشاریہ 55 انچ ڈسپلے ، 6 جی بی ریم، 128 جی بی روم ، 5 ہزار ایم اے ایچ بیٹری اور 50 میگا پگسلز کا طاقتور کیمرہ دیا گیاہے ۔
ٹیکنو کیمون 20

ٹیکنو نے اپنے اس شاندار موبائل کی قیمت 43 ہزار روپے رکھی ہے جبکہ اس کے فیچرز قیمت سے کئی گنا بھاری ہیں ، جس میں 6 اعشاریہ 67 انچ کا ڈسپلے، 8 جی بی ریم، جی 85 اوکٹا کور پراسیسر ، 64 میگا پگسلز کیمرہ اور 5 ہزار ایم اے ایچ کی بیٹری دی گئی ہے ، بیٹر ی کو چارج کرنے کیلئے 33 واٹ کا فاسٹ چارجربھی ہمراہ فراہم کیا جارہاہے ۔



