جہلم میں خواتین کے لیے مخصوص پارک نہ ہونے کے باعث اکیلے واک اور تفریح کے لیے پارکوں کا رخ کرنے والی خواتین کو مختلف مسائل اور عدم تحفظ کا سامنا ہے، جبکہ موجودہ پارکوں میں خواتین کے لیے الگ اور محفوظ واش رومز کی سہولت بھی دستیاب نہیں۔
شہریوں کے مطابق بعض پارکوں میں نشے کے عادی افراد بیٹھے دکھائی دیتے ہیں، جو مبینہ طور پر بعض اوقات سرعام ایک دوسرے کو نشہ آور انجیکشن لگاتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث خواتین، بچوں اور دیگر شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے، جبکہ خواتین تنہا پارکوں میں جانے سے بھی گریز کرنے لگی ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پارک عوامی تفریح، صحت مند سرگرمیوں، ورزش اور خاندانی ماحول کے لیے قائم کیے جاتے ہیں، لیکن جب ان مقامات پر نشے کے عادی افراد کا مستقل ٹھکانہ بن جائے تو شہریوں کے لیے ان سہولیات سے فائدہ اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ خصوصاً خواتین کے لیے مخصوص پارکوں اور محفوظ واش رومز کی عدم موجودگی ایک اہم شہری مسئلہ بن چکی ہے، جس پر متعلقہ حکام کی توجہ ضروری ہے۔
شہریوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ بعض نشے کے عادی افراد کو اہلِ خانہ کی جانب سے گھروں سے نکال دیے جانے کے بعد مناسب علاج اور بحالی کی سہولیات میسر نہیں ہوتیں، جس کے باعث وہ پارکوں، کھلے مقامات، قبرستانوں اور دیگر عوامی جگہوں کو اپنا مسکن بنا لیتے ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف عوامی تفریح کے مقامات کا ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ خود ان افراد کی زندگی اور صحت بھی خطرات سے دوچار رہتی ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق نشے کی لت میں مبتلا افراد کے مسئلے کو محض ان مقامات سے ہٹانے تک محدود رکھنے کے بجائے علاج، بحالی اور مناسب سماجی معاونت کے ذریعے بھی حل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ عوامی مقامات کو محفوظ بنایا جا سکے اور متاثرہ افراد کو بھی بہتر زندگی کی طرف واپس لانے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم کے اندرونِ شہر میں خواتین کے لیے مخصوص اور محفوظ پارک قائم کیے جائیں، موجودہ پارکوں میں خواتین کے لیے الگ اور مناسب واش رومز کی سہولت فراہم کی جائے اور پارکوں میں سکیورٹی و نگرانی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں۔ اس کے ساتھ نشے کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ خواتین، بچوں اور دیگر شہریوں کو محفوظ ماحول میں تفریح اور صحت مند سرگرمیوں کی سہولت میسر آ سکے۔
