سوہاوہ میں منشیات فروشی عروج پر، نوجوان نسل متاثر ہونے لگی

سوہاوہ شہر اور گردونواح میں منشیات فروشی میں خطرناک حد تک اضافہ ہونے لگا، جبکہ نوجوان نسل میں منشیات کی سپلائی کھلے عام جاری ہونے پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اہلیانِ علاقہ کے مطابق مرکزی جامع مسجد محلہ شیخاں، محلہ شہیداں، تالاب، نئی آبادی اور دیگر علاقوں میں شام ڈھلتے ہی نوجوان مختلف ٹولیوں کی صورت میں بیٹھ کر منشیات کا استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ 12 سے 14 سال تک کے کم عمر بچے بھی چرس جیسی لعنت کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ منشیات فروش دیدہ دلیری کے ساتھ اپنا دھندا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض عناصر منشیات فروشوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں اور کارروائی سے قبل انہیں اطلاع دے دی جاتی ہے، جس کے باعث ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

علاقہ مکینوں کے مطابق دینہ، گوجرخان اور مسہ کسوال سمیت دیگر علاقوں سے بھی خریدار شام کے اوقات میں سوہاوہ پہنچتے ہیں، جہاں منشیات کی خرید و فروخت جاری رہتی ہے۔

اہلیانِ سوہاوہ نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم شفیق احمد چوہدری اور ایس ایچ او تھانہ سوہاوہ ملک عمران سے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف خفیہ اور مؤثر آپریشن کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

شہریوں نے امید ظاہر کی کہ ایس ایچ او تھانہ سوہاوہ ذاتی نگرانی میں کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو منشیات فروشوں سے پاک کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کریں گے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button