جہلم میں دودھ اور دہی کے نام پر مبینہ طور پر مضر صحت لیکوئیڈ فروخت ہونے لگا

جہلم شہر اور گردونواح میں دودھ اور دہی کے نام پر مبینہ طور پر مضر صحت اور ملاوٹ شدہ لیکوئیڈ کی فروخت میں اضافے پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شہری حلقوں کے مطابق شہر اور مضافاتی علاقوں میں بعض مقامات پر فروخت ہونے والے دودھ اور دہی کے معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر دودھ میں غیر معیاری اجزاء اور ملاوٹ شامل کر کے اسے خالص دودھ کے طور پر فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے صارفین کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض گوالے اور دودھ فروش دودھ کی مقدار بڑھانے اور اس کی ظاہری شکل بہتر بنانے کے لیے مختلف غیر معیاری اجزاء شامل کرتے ہیں۔ اسی دودھ کو بعد ازاں دہی اور دیگر دودھ سے تیار ہونے والی اشیاء میں بھی استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ دودھ و دہی کا مسلسل استعمال معدے، جگر، گردوں اور آنتوں سے متعلق مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں، بزرگوں اور کمزور قوتِ مدافعت رکھنے والے افراد کے لیے ایسے مضر صحت اجزاء زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ مبینہ طور پر ناکافی چیکنگ اور نگرانی کے باعث ملاوٹ کرنے والے عناصر بے خوف ہو کر اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی صحت کے مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ فروشوں، ڈیری فارمز اور دہی تیار کرنے والے مراکز کی ہنگامی بنیادوں پر جانچ پڑتال کی جائے، دودھ اور دودھ سے تیار کردہ اشیاء کے نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھجوائے جائیں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہریوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ متعلقہ ادارے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں گے تاکہ شہریوں کو خالص، معیاری اور محفوظ دودھ اور دہی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔



