ایجیکس: شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ سکون اور اطمینان دماغ کا نہیں بلکہ دل کا معاملہ ہے۔ آج کے پُرفتن اور مادہ پرستانہ دور میں قلبی سکون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، جبکہ حقیقی امن اور دلی اطمینان صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ قرآن کریم اور محمد الرسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہمیں زندگی میں اعتدال، صبر، شکر اور درست طرزِ عمل اختیار کرنے کی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کینیڈا کے شہر ایجیکس میں خواتین و حضرات کے ایک بڑے اجتماع سے سکونِ قلب کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ انسانی قلب مختلف کیفیات کا مرکز ہے۔ اسی دل میں محبت بھی بستی ہے اور نفرت بھی، اسی میں لالچ بھی پیدا ہوتا ہے اور صبر کی کیفیت بھی جنم لیتی ہے۔ جب بات دل کے سکون کی آتی ہے تو انسان اکثر اس فانی دنیا میں اپنی ایک خیالی دنیا آباد کر لیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس جیسا کوئی دوسرا نہ ہو، اس کی حیثیت سب سے نمایاں ہو اور لوگ اسے اسی انداز میں دیکھیں جس طرح وہ خود کو دیکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب انسان کی یہ خواہشات پوری نہیں ہوتیں یا اس کی بنائی ہوئی خیالی دنیا بکھر جاتی ہے تو اس کے دل کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ یہی کیفیت دل کی بے سکونی، بے قراری اور پریشانی کا سبب بن جاتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رضا کے تابع کرے تاکہ زندگی میں حقیقی اطمینان حاصل ہو سکے۔
حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ بندۂ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ اگر زندگی میں پریشانی یا آزمائش آ جائے تو صبر کرتا ہے اور اگر خوشی اور آسودگی نصیب ہو تو شکر ادا کرتا ہے۔ ان دونوں کیفیات میں اللہ تعالیٰ کی رضا شامل ہے، اس لیے مومن کو حالات کی تبدیلی کے ساتھ اپنے رویے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زندگی کے معاملات ہر انسان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ہر شخص کو مختلف حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات کے مطابق معاملات کو ہوتا نہیں دیکھتا تو اس کے رویوں اور مزاج میں تلخی پیدا ہونے لگتی ہے، حتیٰ کہ وہ حق کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیتا ہے۔ تاہم انسان کے انکار سے حق تبدیل نہیں ہو جاتا۔ بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ حق کو پہچانے، اسے قبول کرے اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے کہا کہ اللہ کریم کا بندۂ مومن پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اگر وہ اپنے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انجام دے تو اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت بن سکتا ہے۔ یہ مومن کے لیے ایک عظیم شرف ہے کہ اس کی زندگی کے تمام امور اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی تعلیمات کے تابع ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مومن کی دنیا بھی دین بن جاتی ہے، جبکہ کافر کا دین بھی دنیا ہی رہتا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے درود شریف کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی عملی روح یہ ہے کہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ سنتِ خیرالانام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ سے مزین ہو۔ آپ ﷺ کی اتباع صرف زبانی دعوے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمارے کردار، معاملات اور روزمرہ زندگی میں اس کا عملی اظہار ہونا چاہیے۔
انہوں نے اولاد کی تربیت کے حوالے سے کہا کہ والدین کو سب سے پہلے اپنی اصلاح اور تربیت پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ جب والدین اپنے کردار کو بہتر بنائیں گے تو اس کے مثبت اثرات بچوں کی تربیت پر بھی مرتب ہوں گے۔ اگر بڑوں کا رویہ اچھا ہوگا، وہ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں گے اور ادب و احترام کا عملی مظاہرہ کریں گے تو بچے بھی ان سے سیکھیں گے کہ بڑوں کا احترام اور دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کس طرح کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان ان دنوں کینیڈا اور امریکہ کے دورے پر ہیں، جہاں مختلف شہروں میں پروگرامز منعقد کیے جا رہے ہیں اور وہ دینی و اصلاحی موضوعات پر لیکچرز دے رہے ہیں۔ ایجیکس میں منعقدہ سکونِ قلب کانفرنس میں کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں اور مسلم کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں بزرگ، نوجوان، خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
پروگرام کے اختتام پر امیر عبدالقدیر اعوان نے شرکاء کو ذکرِ قلبی کی تعلیم دی اور امتِ مسلمہ کی سربلندی، اتحاد اور بہتری کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
