جہلم میں افغان باشندوں کےغیر قانونی شناختی کارڈ بنوانے کا انکشاف، نادرا نے مشکوک افراد کو نوٹس جاری کر دیے

جہلم: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پنجاب میں پاکستانی شناختی کارڈ غیرقانونی طور پر رکھنے کے شبہے میں مزید 741 افراد کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نادرا کے علاقائی دفتر کی جانب سے 741 مشتبہ شناختی کارڈ رکھنے والے افراد کی ابتدائی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں ضلع جہلم اور اس کی مختلف تحصیلوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
نادرا کی جانب سے نامزد تمام افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 روز کے اندر اپنے متعلقہ نادرا زونل دفتر میں پیش ہوں اور اپنی شناخت اور شہریت سے متعلق ضروری دستاویزات بھی ہمراہ لائیں، تاکہ ان کے شناختی کارڈز کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔
نادرا حکام کے مطابق مقررہ مدت کے اندر پیش نہ ہونے والے افراد کے شناختی کارڈ بلاک کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مشکوک شناختی دستاویزات رکھنے والے افراد اور ان کے خاندان سے متعلق بھی قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
نادرا کی جانب سے جعلی اور مشکوک شناختی دستاویزات کے خلاف جاری کارروائی کے دوران یہ معاملہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض افغان مہاجرین نے مبینہ طور پر غیرقانونی طریقے سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے۔
نادرا حکام کا کہنا ہے کہ مشکوک شناختی کارڈز کی چھان بین کا مقصد قومی شناختی نظام کو مزید محفوظ بنانا اور غیرقانونی طور پر حاصل کیے گئے شناختی دستاویزات کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنانا ہے۔



