کھیوڑہ تا چوآسیدن شاہ نئی کنکریٹ سڑک افتتاح کے چند ماہ بعد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار

32
پنڈدادنخان: کھیوڑہ تا چوآسیدن شاہ نئی کنکریٹ سڑک افتتاح کے چند ماہ بعد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی، کروڑوں کے منصوبے پر سوالات اٹھ گئے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے تاریخی اور سیاحتی علاقوں کھیوڑہ سے چوآسیدنشاہ پہاڑی ایریا تک نئی تعمیر ہونے والی کنکریٹ سڑک افتتاح کے چند ہی ماہ بعد شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا شروع ہو گئی ہے، جس پر عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
اڑھائی کلومیٹر طویل اس کنکریٹ روڈ پر 126 اعشاریہ 550 ملین روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی تھی، تاہم سڑک کے مختلف حصوں پر جگہ جگہ دراڑیں پڑ چکی ہیں جبکہ متعدد مقامات پر کنکریٹ زمین بوس ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق سڑک کے کناروں پر شولڈر کا کام نامکمل چھوڑ دیا گیا اور ٹھیکیدار کام ادھورا چھوڑ کر غائب ہو گیا، جس سے قومی خزانے کے ضیاع پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ دراڑیں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں اور اگر بروقت مرمتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ پوری سڑک چند ہی ماہ میں مکمل طور پر تباہ ہو سکتی ہے۔ شہریوں نے نشاندہی کی کہ کنکریٹ کے معیار، تعمیراتی طریقہ کار اور نگرانی کے عمل میں واضح خامیاں نظر آتی ہیں، جو ناقص میٹریل کے استعمال اور غفلت کا ثبوت ہیں۔
عوامی و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور اسسٹنٹ کمشنر پنڈدادنخان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے میں شامل ٹھیکیدار اور محکمہ ہائی وے کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ ادھورا شولڈر، کم مدت میں کنکریٹ کا کریک ہونا اور معیار سے ہٹ کر تعمیر واضح بدانتظامی کو ظاہر کرتا ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کا فوری تکنیکی آڈٹ کروایا جائے، ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سڑک کا ادھورا کام فوری طور پر مکمل کرایا جائے تاکہ سیاحتی اور عوامی اہمیت کے حامل اس راستے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔



