جہلم میں بارشوں نے تباہی مچا دی، نالہ بنہاں کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، چھتیں گرنے سے خاتون سمیت کئی افراد زخمی

جہلم/ پنڈدادنخان: ضلع جہلم میں مسلسل مون سون بارشوں نے جہلم میں تباہی مچا دی، سینکڑوں ایکڑ فصلیں زیر آب، نالہ بنہاں کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، مکانات اور دکانوں کی چھتیں گرنے سے خاتون سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم میں مسلسل پانچویں روز جاری مون سون بارشوں نے شہری اور دیہی علاقوں میں شدید تباہی مچا دی۔ موسلا دھار بارشوں کے باعث متعدد دیہات زیر آب آ گئے، سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی اور فصلیں متاثر ہوئیں، جبکہ نالہ بنہاں کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی آبادیوں کی جانب بڑھ گیا۔ مختلف حادثات میں ایک خاتون سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
مسلسل بارشوں کے باعث ضلع کے مختلف دیہاتوں میں سیلابی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ سنگھوئی، چوٹالہ، داراپور، جاکر، رانجھا میرا، اڑا جسروٹہ اور دیگر علاقوں میں کھیت بارش کے پانی سے بھر گئے ہیں، جبکہ دھان، چارہ اور دیگر فصلیں کئی کئی فٹ پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ چند روز میں پانی کی نکاسی نہ ہوئی تو فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے مطابق بعض مقامات پر سڑکوں کے نیچے تعمیر کی گئی پلیاں بند ہونے کے باعث برساتی پانی کی نکاسی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس سے پانی آبادیوں اور زرعی زمینوں میں جمع ہو رہا ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ادھر نالہ بنہاں کا حفاظتی بند بھی ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں سیلابی پانی قریبی دیہات کی طرف بڑھنے لگا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بھی اسی مقام پر حفاظتی بند ٹوٹنے سے وسیع علاقہ زیر آب آ گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ بند مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیا تھا اور گزشتہ سال کے سیلاب کے بعد حکومت سے اس کی مستقل بنیادوں پر تعمیر و مرمت کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود اس حوالے سے موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
دوسری جانب پنڈدادنخان کے محلہ عالم شاہ نمبر 2 میں بارش کے باعث ایک مکان کی دیوار گرنے سے ملحقہ گھر کی دو چھتیں زمین بوس ہو گئیں۔ حادثے کے وقت گھر کی ایک خاتون کچن میں موجود تھیں، جو چھت اور ملبہ گرنے سے شدید زخمی ہو گئیں۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال پنڈدادنخان منتقل کر دیا گیا، جبکہ گھر کے ایک بیڈروم اور کچن میں موجود سامان بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
اسی دوران پنڈدادنخان میں سجاد آئرن سٹور کی چھت بھی بارش کے باعث گر گئی، جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
شہریوں، کسانوں اور متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسی آب کے نظام کو فوری بحال کیا جائے، حفاظتی بندوں کی مضبوط تعمیر کو یقینی بنایا جائے، متاثرہ خاندانوں کی امداد کی جائے اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔



