جہلم سمیت ضلع بھر کے مختلف علاقوں میں گندم کی کٹائی زور و شور سے شروع ہوچکی ہے تاہم اس دوران کسان اور زمیندار باردانہ کی عدم دستیابی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔
اس حوالے سے کسانوں کا کہنا ہے کہ سرکاری باردانہ کا حصول مشکل نظر آرہا ہے ۔ کسان اونے پونے داموں میں گندم مقامی بیوپاریوں اور منڈیوں میں فروخت کررہے ہیں۔
دوسری جانب محکمہ خوراک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ باردانہ کی تقسیم ابھی شروع نہیں ہوئی توپٹواری کیسے تقسیم کرسکتے ہیں ، باردانہ ایپلی کیشن متعارف کروائی جاچکی ہے، پڑھے لکھے لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رجوع کررکھا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا کہ ہمیں پتا ہے باردانہ کتنا ہونا چاہیے، گندم کی امدادی قیمت 3900 روپے ہے جوپنجاب میں سب سے زیادہ ہے، سپورٹ پرائس 3900 روپے ہی رکھی جا سکتی ہے ورنہ مسائل پیداہونے کا اندیشہ لاحق ہے ۔
