کھیوڑہ تا چوآسیدن شاہ روڈ کی خستہ حفاظتی دیواریں، بڑے حادثے کا خدشہ

کھیوڑہ تا چوآسیدن شاہ پہاڑی روڈ پر حفاظتی دیواروں کی خطرناک حد تک خستہ حالی نے شہریوں، مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔ متعدد مقامات پر حفاظتی دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ بعض جگہوں پر دیواروں کے حصے گرنے کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔

کھیوڑہ تا چوآسیدن شاہ روڈ ایک اہم عوامی و صنعتی شاہراہ ہے، جہاں روزانہ مسافر گاڑیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں بھاری مال بردار ٹرک اور ڈمپرز بھی گزرتے ہیں۔

شہریوں کے مطابق سڑک کی حالیہ مرمت کے باوجود ہیوی ٹریفک کے مسلسل دباؤ کے باعث سڑک کے شولڈرز اور بعض دیگر حصے دوبارہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے سڑک کی پائیداری اور تعمیراتی معیار کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

عوامی حلقوں نے حفاظتی دیواروں میں نصب لوہے کے مختلف حصوں کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واضح کیا جائے کہ یہ حفاظتی ڈھانچے کس منظور شدہ نقشے، ڈیزائن اور تکنیکی معیار کے مطابق تعمیر کیے گئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دیواریں سڑک اور ٹریفک کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تعمیر کی گئی ہیں تو ان کی موجودہ حالت کا فوری تکنیکی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

شہریوں نے محکمہ مواصلات و تعمیرات پنجاب (C&W) کے متعلقہ افسران، بالخصوص متعلقہ ہائی وے ڈویژن کے XEN اور SDO سے مطالبہ کیا ہے کہ کھیوڑہ تا چوآسیدن شاہ روڈ کا فوری موقع پر معائنہ کیا جائے۔ خستہ حفاظتی دیواروں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار شولڈرز کا تکنیکی جائزہ لے کر ہنگامی بنیادوں پر مرمت و بحالی کے اقدامات کیے جائیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محض کاغذی کارروائی یا مرمت کے دعووں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ تعمیراتی کام کے معیار اور استعمال ہونے والے میٹریل کی بھی باقاعدہ جانچ ہونی چاہیے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ حفاظتی دیواروں کی تعمیر و مرمت کے منظور شدہ نقشے، ڈیزائن، تخمینہ اور استعمال شدہ میٹریل کا ریکارڈ بھی چیک کیا جائے اور اگر کسی مقام پر ناقص یا غیر معیاری تعمیر ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

شہریوں کے مطابق پہاڑی روڈ پر ہیوی ٹریفک کے باعث حادثات کا خطرہ مسلسل موجود رہتا ہے، جبکہ خستہ حفاظتی دیواریں، کمزور شولڈرز اور بھاری گاڑیوں کا دباؤ صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی حادثے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ انسانی جانوں اور قومی و عوامی املاک کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button