رحمت کارڈ پروگرام میں غیر شادی شدہ اور مطلقہ خواتین کو بھی شامل کیا جائے، عوامی و سماجی حلقوں کا مطالبہ

پڑی درویزہ: عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ رحمت کارڈ مالی امدادی پروگرام میں بیوہ خواتین کے ساتھ ساتھ غیر شادی شدہ اور مطلقہ مستحق خواتین کو بھی شامل کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خواتین اس فلاحی پروگرام سے مستفید ہو سکیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے یکم مئی سے صوبہ بھر میں مستحق بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کی مالی امداد کے لیے “رحمت کارڈ” پروگرام کا اجرا کیا گیا ہے، جسے عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ معاشرے میں بڑی تعداد میں ایسی غیر شادی شدہ اور مطلقہ خواتین بھی موجود ہیں جو شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، لہٰذا انہیں بھی اس پروگرام میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ محرومی کا احساس ختم ہو سکے۔
عوامی حلقوں نے مزید توجہ دلائی کہ 1960ء کی دہائی سے قبل کی بیوہ، غیر شادی شدہ یا مطلقہ خواتین کے پاس خاوند یا والدین کے یونین کونسل سے جاری کردہ ڈیتھ سرٹیفکیٹس موجود نہیں ہیں کیونکہ اس دور میں یونین کونسلوں کا باقاعدہ نظام قائم نہیں تھا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رحمت کارڈ کی آن لائن رجسٹریشن کے دوران ان خواتین کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل طریقہ کار وضع کیا جائے اور متعلقہ حکام کو خصوصی ہدایات جاری کی جائیں تاکہ مستحق خواتین کو مالی امداد کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔



