امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ دین اسلام وہی ہے جو اللہ کا حکم ہے، مخلوق کی آراء اسلام نہیں ہو سکتیں۔ اگر کسی کی ذاتی رائے کو قرآن و سنت کے نام پر دین میں شامل کیا جائے تو یہ بدعت اور دین کے ساتھ ظلم ہے، اسے دین قرار نہیں دیا جا سکتا۔
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کے ذمہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی کلی اطاعت ہے، اس میں ذاتی رائے کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ اسلامی احکامات پر عمل کرنے سے ہر شخص کو فائدہ پہنچتا ہے اور اس میں سب کی بہتری ہوتی ہے۔ ایسا نہیں کہ اسلام کے کسی حکم سے ایک شخص کو فائدہ ہو اور دوسرے کو نقصان پہنچے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اسلام ہماری ضرورت ہے، اسلام کو ہماری ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایمان کی نعمت عطا فرمائی۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی مخالفت میں مصروف ہیں، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، البتہ وہ دین اسلام کو نقصان پہنچانے اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے خلاف سازشیں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں دینی باتوں اور دینی پروگراموں کی طرف لوگوں کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔ دینی پروگرامز اور محافل میں بعض اوقات بہت کم لوگ شریک ہوتے ہیں، جبکہ کسی تفریحی یا تماشے کے مقام پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ لوگ اپنا وقت اور پیسہ ضائع کرنے کے باوجود ایسی سرگرمیوں میں شرکت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کی پیروی اور اس کی تسکین میں مصروف ہو گیا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ سے خالص استقامت فی الدین کی توفیق مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے زور دیا کہ نیکی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنی چاہیے۔ جو شخص دین پر عمل کرتا ہے وہ دراصل دین کی حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ کریم ہمیں دین کا صحیح شعور عطا فرمائیں، قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنے احکامات پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
