غزہ پر اسرائیل کی اندھا دھند کارروائی سے انسانی المیہ جنم لے گا، صادق خان

لندن کے میئر صادق خان نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی اندھادھند کارروائی سے انسانی المیہ جنم لے گا۔ انھوں نے اسرائیلی حکومت سے کہا ہے کہ حماس کے حملے میں لوگوں کی ہلاکت اور قیدی بنائے جانے کے جواب میں غزہ کو خوراک، پانی اور بجلی کی فراہمی بند کئے جانے سے علاقے کے لاکھوں لوگوں کو ناقابل بیان مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لئے وہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
فلسطینیوں کیلئے طبی امداد نامی چیرٹی کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے صادق خان نے کہا کہ میں نے لندن کے ان لوگوں سے بات کی ہے، جن کے لوگ غزہ میں ہلاک ہوئے ہیں اور ان لوگوں سے بھی بات کی ہے، حماس کے حملے کے نتیجے میں مارے گئے، ہمیں ان سب کے دکھ کا احساس ہے لیکن ہمیں خوف ہے کہ اسرائیلی حکومت کا ردعمل بہت زیادہ ہے اور اس سے غزہ کے لوگوں کی مشکلات میں ناقابل بیان حد تک اضافہ ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ان مصائب کی بات کر رہا ہوں، جو اس چیرٹی نے، جو کئی عشروں سے اس علاقے میں کام کررہی ہے، نہیں دیکھا ہوگا۔
اسی موقع پر آئی ٹی وی کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم میں سے بہت سوں کو تشویش اسرائیلی حکومت کے غیر متوازن ردعمل پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق کوئی بچہ حماس میں شامل نہیں ہے، جو لوگ ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں، وہ حماس کے رکن نہیں ہیں، اسرائیل حماس کے لوگوں کا تعاقب کرے لیکن جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے، وہ اس چیرٹی نے بھی پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔
لندن کے میئر نے برطانیہ کی حکومت پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دبائو ڈالے کہ وہ صبر اور تحمل سے کام لے، مجھے امید ہے کہ اسرائیلی حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی اور بین الاقوامی دبائو کو قبول کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ جب آپ اقوام متحدہ کی بات سنتے ہیں، عالمی ادارہ صحت کی باتیں سنتے ہیں اور لوگوں کی باتیں سنتے ہیں، ہمیں اپنے اچھے تعلقات کے ذریعہ اسرائیل کو یہ سمجھانا چاہئے کہ وہ ہوش کے ساتھ ردعمل کا اظہار کرے، خوراک، پانی اور دوائوں کو غزہ کے عوام تک پہنچنے دے اور اسرائیل کی حکومت کو سمجھائے کہ اس کے نتیجےمیں کم وبیش ایک ملین افراد کویعنی برمنگھم کی آبادی کے برابر لوگوں کو ناقابل تصور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے لوگوں کو جنوب کی طرف جانے کی ہدایت کی ہے لیکن لوگ جنوب کی طرف نہیں جاسکتے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن Dujarric نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لوگوں کو غزہ خالی کرنے کے حکم پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے، اس کے سنگین انسانی نوعیت کے نتائج برآمد ہوں گے۔
تل ابیب نے گزشتہ روز کہا تھا کہ غزہ کا محاصرہ حماس کی جانب سے قیدی بنائے گئے لوگوں کی رہائی تک جاری رہے گا۔
وزیر دفاع گرانٹ شیپس کا کہنا ہے، لوگوں کو فوجی کارروائی کی پیشگی اطلاع دینا درست ہے تاکہ لوگ نقل مکانی کرسکیں۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو حماس کا تعاقب کرنے کا حق حاصل ہے، برطانیہ اب تک اسرائیل کی مدد کیلئے اپنا بحری بیڑہ اور رائل ائر فورس کے نگراں طیارے بھیج چکا ہے۔
چانسلر جیریمی ہنٹ نے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے مزید فوجی امداد بھیجے جانے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔


