پاکستانی نظام صحت میں چیک اینڈ بیلنس بہتر کیا جائے، ڈاکٹر شفقت بخاری

مانچسٹر: پاکستان میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بہتر بنا کر صحت کے شعبے میں مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں بیسک یونٹس کو ڈسٹرکٹ یونٹس پر اسٹیبلش کرنیکی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار برطانیہ کے معروف ماہرصحت ڈاکٹر شفقت بخاری نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر شفقت بخاری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ٹرانس پلانٹ‘ تربیتی ورکشاپس‘ اور جونیئر ڈاکٹرز سمیت کنلسٹنٹس کی جدید خطوط پر تربیت کیلئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے پیشہ وارانہ امور میں مزید بہتری لائی جا سکے اور وہ ملک وقوم کی بہتر سے بہتر انداز میں خدمت کریں ‘ حکومت پاکستان کی طرف سے اگر اس شعبہ پر خصوصی توجہ اور سرپرستی حاصل ہوتو سونے پر سہاگہ ہوگا۔
ڈاکٹر شفقت بخاری نے کہا کہ 10مختلف بڑی آرگنائزیشن متحرک ہیں جن میں سے ایک ڈاکٹرز آرگنائزیشن کے جنرل سیکرٹری کے طو رپر وہ بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ڈاکٹرز کیمونٹی کی فلاح و بہبود ‘ جونیئر ڈاکٹرز کی رہنمائی اور مریضوں کی خدمت کے لئے وہ ہمیشہ متحرک کردار نبھاتے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جلد لندن میں ایک میٹنگ کال کی جا رہی ہے جس میں مختلف ڈاکٹرزآرگنائزیشنز کے ذمہ داران کو مدعو کیا جائے گا۔ سفیر پاکستان طارق وزیر اور دیگر کیمونٹی رہنما بھی شریک ہوں گے، اس میٹنگ میں ڈاکٹرز کیمونٹی کیلئے جدید تربیت اور دیگر اہم معاملات کو زیر بحث لایاجائے گا امید کرتے ہیں کہ اس کے انتہائی مثبت نتائج مرتب ہوںگے ۔



