ایک ماہ قبل نظم ’اگر میں مارا گیا‘ لکھنے والے نامور فلسطینی شاعر اسرائیلی بمباری میں جاں بحق
انگریزی زبان میں اپنی کہانی بڑے پیمانے پر لوگوں کو سنانے کے لیے فلسطینی شاعر رفعت الایریر اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہوگئے، انہوں نے ایک ماہ قبل نظم ’اگر میں مارا گیا‘ لکھی تھی۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق 7 اور 8 دسمبر کی درمیانی شب اسرائیلی فضائی حملے میں فلسطینی شاعر رفعت الایریر اور ان کا پورا خاندان جاں بحق ہوا تھا۔
ان کے دوست، غزہ کے شاعر مصعب ابو توحہ نے فیس بک پر لکھا کہ ’میرا دل ٹوٹ گیا ہے، میرے دوست اور ساتھی رفعت الیریر کو چند منٹ قبل اس کے اہل خانہ کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔‘
جاں بحق ہونے والے فلسطینی شاعر کے دوست نے لکھا کہ ’میرا دل ٹوٹ گیا ہے، میں یقین نہیں کرسکتا کہ میرے دوست کو قتل کردیا گیا ہے۔‘
Our friend Refaat is no longer alive. #Gaza https://t.co/MRjQHSVIVP
— Muhammad Smiry 🇵🇸 (@MuhammadSmiry) December 7, 2023
حماس کے حکام کے مطابق اسرائیل نے جمعرات کی شام غزہ کی پٹی کے شمال میں مزید حملے کیے تھے۔
سوشل میڈیا پر جاں بحق ہونے والے فلسطینی شاعر کی ایک نظم بھی وائرل ہورہی ہے جو انہوں نے ایک ماہ قبل لکھی تھی، اس نظم کو ہزاروں لوگوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔
انہوں نے اپنی نظم میں لکھا تھا کہ ’اگر مجھے مرنا ہے تو کہانی سنانے کے لیے آپ کو زندہ رہنا ہوگا۔‘
نظم کے ایک حصے میں لکھا تھا کہ ’اگر مجھے مرنا ہے، تو امید زندہ رہنے دو، اسے ایک کہانی بننے دو۔‘
If I must die, let it be a tale. #FreePalestine #Gaza pic.twitter.com/ODPx3TiH1a
— Refaat in Gaza 🇵🇸 (@itranslate123) November 1, 2023
اکتوبر میں اسرائیل کی جانب سے زمینی کارروائی شروع کرنے کے چند بعد فلسطینی شاعر رفعت الایریر نے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ غزہ چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔
فلسطینی شاعر نےکہا تھا کہ ’غزہ سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، ہم کیا کریں، ڈوب جائیں؟ اجتماعی خودکشی کرلیں؟ کیا اسرائیل یہی چاہتا ہے؟ اور ہم ایسا نہیں کریں گے۔‘
The Palestinian academic, Martyr Rifaat Al-Arair, says emotionally, choked with tears: “The situation is very bleak. We don’t even have water… I only have my pen. I will throw it at the occupation soldiers if they storm, even if that is the last thing I do. We have nothing to… pic.twitter.com/vn3bNV38Q1
— Fahad_ Heaven™ (The Wise) 🇵🇸 (@Fahad_Heaven) December 7, 2023
انہوں نے کہا تھا کہ اگر اسرائیلی افواج حملہ کرتی ہیں اور ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہے تو ہمیں مزاحمت کرنے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑا ہم کریں گے۔
جاں بحق ہونے والے فلسطینی شاعر نے کہا تھا کہ یہ جذبہ کئی فلسطینیوں کے اندر پایا جاتا ہے، ہم خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
رفعت الایریر کے دوست احمد النوق نے ’ایکس‘ پر ٹوئٹ کرتےہوئے لکھا کہ ’رفعت کا قتل المناک، دردناک اور اشتعال انگیز ہے، یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے‘۔
فلسطینی شاعر کے جاں بحق ہونے پر ادبی مرکز کی ویب سائٹ نے بھی انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
رفعت الیریر غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں انگریزی ادب کے پروفیسر بھی تھے، جہاں وہ شیکس پیئر کے علاوہ دیگر مضامین بھی پڑھاتے تھے۔
وہ ’ہم نمبرز نہیں ہیں‘ (”We are not numbers“) نامی پروجیکٹ کے شریک بانیوں میں سے ایک تھے، جو انگریزی زبان میں نظمیں لکھ کر اپنی کہانیاں بڑے پیمانے پر لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی آپریشن شروع کیا، اسرائیل کی جانب سے مسلسل بمباری کی وجہ سے 17 ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔



