جہلم شہر میں مبینہ غیر قانونی ویگن اسٹینڈز شہریوں کے لیے درد سر بن گئے، ٹریفک کی روانی متاثر

جہلم شہر میں مبینہ طور پر قائم دو غیر قانونی ویگن اسٹینڈز شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن گئے ہیں۔ اندرون شہر اہم سڑکوں پر گاڑیوں کے بے ہنگم قیام کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے لگی ہے، جبکہ پیدل چلنے والے شہریوں کو بھی آمدورفت میں دشواری کا سامنا ہے۔
شہری حلقوں کے مطابق صورتِ حال کے باعث بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کا مصروف شاہراہوں سے گزرنا مشکل ہو چکا ہے، جبکہ شہر کی مختلف سڑکوں پر ٹریفک جام رہنا بھی معمول بنتا جا رہا ہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ رواں ماہ اندرون شہر قائم ہونے والے ان مبینہ غیر قانونی ویگن اسٹینڈز کے خلاف مؤثر کارروائیاں نہ ہونے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ویگنوں اور دیگر گاڑیوں کو سڑکوں پر غیر منظم انداز میں کھڑا کرنے سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی گزرگاہوں پر بھی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کو روزمرہ آمدورفت کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہری حلقوں نے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے)، موٹر وہیکل ایگزامینر اور ٹریفک پولیس کی مبینہ عدم توجہی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اندرون شہر اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کے غیر منظم قیام کے مسئلے کا تاحال مؤثر حل سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹریفک قوانین اور ضابطوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور عوامی راستوں کو ہر قسم کی رکاوٹ سے محفوظ رکھیں۔
شہریوں کے مطابق اگر عوامی گزرگاہوں اور اندرون شہر کی اہم سڑکوں پر گاڑیوں کا غیر منظم قیام اسی طرح جاری رہا تو ٹریفک کے مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتِ حال سے نہ صرف عام شہری متاثر ہوتے ہیں بلکہ مصروف اوقات میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتِ حال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شہر میں قائم مبینہ غیر قانونی ویگن اسٹینڈز کا جائزہ لیں۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی جائے کہ عوامی راستوں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو روکا جائے اور اگر کسی ویگن اسٹینڈ یا گاڑیوں کے قیام میں خلافِ ضابطہ سرگرمی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور متعلقہ ٹرانسپورٹ حکام اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں گے، تاکہ شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جا سکے اور شہریوں کو آمدورفت میں درپیش مشکلات سے نجات مل سکے۔



