جہلم: جی ٹی روڈ کے درمیان اور سروس روڈ کے اطراف شہریوں کو حادثات سے محفوظ رکھنے کے لیے نصب کیے گئے حفاظتی لوہے کے جنگلے مبینہ طور پر چوری کرکے فروخت کیے جانے کا سلسلہ تاحال نہ رک سکا جبکہ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی مبینہ عدم دلچسپی کے باعث سڑک سے حفاظتی جنگلے غائب ہونا معمول بنتا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم میں جی ٹی روڈ اور سروس روڈ کو محفوظ بنانے اور شہریوں کو ٹریفک حادثات سے بچانے کے لیے این ایچ اے کی جانب سے سڑک کے وسط اور سروس روڈ کے اطراف کروڑوں روپے مالیت کے حفاظتی لوہے کے جنگلے نصب کیے گئے تھے۔ شہریوں کے مطابق مختلف مقامات سے یہ جنگلے مبینہ طور پر غائب ہو رہے ہیں، جس کے باعث سڑک کے حفاظتی انتظامات متاثر ہو رہے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر جنگلے مبینہ طور پر کاٹ کر ہٹا دیے گئے، جبکہ باقی ماندہ جنگلوں کو مبینہ طور پر منشیات کے عادی افراد چوری کرکے کباڑیوں کو فروخت کر رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق اس صورتحال کے باعث سڑک کے بعض حصوں میں پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کے لیے حفاظتی انتظامات کمزور ہوگئے ہیں اور حادثات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حفاظتی جنگلے صرف سڑک کی خوبصورتی کا حصہ نہیں بلکہ حادثات کی روک تھام اور ٹریفک کو منظم رکھنے کے لیے اہم حفاظتی اقدام ہیں، اس لیے ان کی چوری یا عدم موجودگی کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
شہری حلقوں نے چیئرمین این ایچ اے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا ہے کہ حفاظتی جنگلے چوری کرنے اور انہیں غیر قانونی طور پر خرید و فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے، سڑک کے متاثرہ مقامات پر فوری طور پر نئے جنگلے نصب کیے جائیں اور ان کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو ممکنہ ٹریفک حادثات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
