جہلم میں ون ڈش ایکٹ کی دھجیاں اُڑائی جانے لگیں، انتظامیہ غفلت کا شکار

جہلم شہر اور ضلع بھر میں ون ڈش ایکٹ کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ افسران قانون پر عمل درآمد کروانے سے گریزاں ہیں جبکہ شہری بارہا حکومت کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کروا چکے ہیں۔ صوبائی حکومت بھی اس ایکٹ پر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ون ڈش ایکٹ نہ صرف تقریبات میں سادگی کو فروغ دیتا ہے بلکہ معاشرتی اعتدال کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن انتظامیہ کے افسران گرم و آرام دہ دفاتر سے باہر نکل کر اس قانون پر عملدرآمد کروانے کو تیار نہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے افسران نے اپنی ذمہ داریاں درجہ چہارم کے ملازمین پر ڈال دی ہیں، جو شادی ہال مالکان سے ساز باز کرکے نہ صرف مختلف کھانوں کے پارسل وصول کرتے ہیں بلکہ قانون کی خلاف ورزی میں بھی ملوث ہیں۔ یہ ملازمین، شادی ہالز کے مالکان کے ساتھ معاملات طے کرکے مانیٹرنگ سے گریز کرتے ہیں جبکہ حاصل شدہ رشوت کا ایک حصہ اعلیٰ افسران تک بھی پہنچایا جاتا ہے۔ اس کرپشن کے باعث نہ صرف ون ڈش ایکٹ بلکہ رات 10 بجے کے بعد تقریبات کے اختتام کا قانون بھی غیر موثر ہو کر رہ گیا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں متنوع کھانوں کی پیشکش معمول بن چکی ہے۔
جہلم کی چاروں تحصیلوں میں انتظامی افسران کی غفلت اور نااہلی کے باعث ون ڈش ایکٹ جیسے انقلابی قانون کی افادیت ختم ہو چکی ہے۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر محمد میثم عباس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شادی ہالز کے اچانک دورے کریں اور ون ڈش ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ساتھ ہی، انہوں نے کرپٹ اور نااہل افسران کا محاسبہ کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ون ڈش ایکٹ کی خلاف ورزی کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی پورٹل متعارف کروایا جائے۔ اس پورٹل پر شہری تصاویر اور ویڈیوز اپلوڈ کرکے خلاف ورزیوں کی اطلاع دے سکیں تاکہ ان قوانین کی موثر مانیٹرنگ ہو سکے اور قانون شکنی کے رجحان کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے بلکہ قانون کی بالادستی کو بھی چیلنج کرتی ہے۔ موثر کارروائی اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔



