انتظامیہ کی نااہلی یا اختیارات کا غلط استعمال؟ تجاوزات کے خلاف ناکامی، صحافت پر وار

دینہ میں انتظامیہ کی جانب سے صحافت کے خلاف کارروائی پر مقامی صحافیوں اور شہری حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دینہ میں تجاوزات، بڑھتی مہنگائی اور عوامی مسائل پر میڈیا کی تنقید کو برداشت نہ کرتے ہوئے دینہ انتظامیہ نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے مرکزی چوک سے اخبار کا اسٹال ہی ہٹا دیا۔
یہ اقدام نہ صرف آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے بلکہ عوام کی معلومات تک رسائی روکنے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔ مقامی میڈیا نمائندگان اور اخبار فروش یونین نے انتظامیہ کے اس اقدام کو "انتقامی کارروائی” قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔
صحافیوں نے کہا کہ دینہ انتظامیہ تجاوزات اور عوامی مسائل پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے صحافت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ایک مقامی صحافی نے کہا، "ہماری آواز بند کرنے کی کوشش دراصل عوام کے حقوق دبانے کی کوشش ہے۔ یہ حربے ناکام ہوں گے، اور ہم اس زیادتی کے خلاف متحد رہیں گے۔”
شہری حلقوں نے بھی اس رویے کی سخت مذمت کی ہے اور کہا کہ انتظامیہ کو اپنی نااہلی چھپانے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
مقامی میڈیا نے واضح کیا کہ اگر انتظامیہ نے اپنی کارروائیاں نہ روکیں تو اس کے خلاف بھرپور مہم چلائی جائے گی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صحافت کے خلاف ایسے اقدامات جمہوری اقدار کے منافی ہیں اور عوام کی آواز دبانے کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ دینہ انتظامیہ فوری طور پر اس انتقامی کارروائی کو ختم کرے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔



