شدید گرمی کے باعث نکسیر پھوٹنے کے کیسز میں اضافہ، ڈاکٹرز نے احتیاطی تدابیر جاری کر دیں

جہلم: ضلع جہلم میں گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافے کے بعد نکسیر پھوٹنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس کے باعث اس مرض نے وبائی صورت اختیار کر لی ہے۔

جہلم شہر کے مختلف علاقوں سے روزانہ کی بنیاد پر نکسیر کے متاثرہ مریضوں کو ہسپتال لایا جا رہا ہے، جس پر طبی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر فواد مجید چوہدری کے مطابق شدید گرمی کے باعث انسانی جسم، خصوصاً ناک کی باریک رگیں خشک ہو کر چٹخنے لگتی ہیں، جس کے نتیجے میں معمولی خارش یا جھٹکے سے ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اگرچہ بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہے، لیکن مریضوں کے لیے خوف اور پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر فواد نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سخت گرمی میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں۔ اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو سر کو گیلا کپڑا یا تولیہ لپیٹ کر رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناک کو تر رکھنے کے لیے وضو کی طرز پر ناک میں پانی ڈالنا مفید ہے اور نکسیر پھوٹنے کی صورت میں فوری طور پر ناک بند کر کے سر پر ٹھنڈا پانی ڈالیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مخصوص ادویات کے استعمال سے وقتی آرام حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن اس مرض کا بنیادی علاج ہی گرمی سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر پر عمل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لاپرواہی، غیر متوازن غذاؤں اور گرم تاثیر رکھنے والی اشیاء کے استعمال سے جسم کا درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے، جو نکسیر جیسی تکالیف کو جنم دیتا ہے۔

ماہرین صحت نے ضلعی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں میں آگاہی مہم چلائی جائے اور ہیٹ ویو سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری موسمی شدت کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button