امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ ہر متنفس کو موت کے دروازے سے گزرنا ہے۔ سکرات الموت کے لمحات کے وقت مشکل اور آسانی کا تعین ہم نہیں کر سکتے، کیونکہ ایک لمحے میں روح نکل جائے اور اللہ کریم اسے صدیوں کی طوالت دے دیں تو کون ہے جو اسے محدود کر سکے گا؟
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے جمعتہ المبارک کے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی جدت نے ہمیں ہر چیز سکھا دی ہے، لیکن بنیاد جو نیت ہے، اس کی طرف ہماری توجہ نہیں ہے۔ تمام امور میں، چاہے وہ عبادات کے ہوں یا معاملات کے، ان سب میں بنیاد نیت ہے۔ آج سارا زور اس بات پر لگایا جا رہا ہے کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں، میری حیثیت کیا ہے، میرا پہننا اوڑھنا کیسا ہے اور میرا لائف اسٹائل کیسا ہے، لیکن جو اصل ہے جسے نیت کہتے ہیں، اسے ہم نے بھلا دیا ہے، حالانکہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اگر دل میں نفاق ہوگا تو سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، اور اگر دل میں خلوص ہو تو یہ ایسی شے ہے جو بندے کو ڈوبنے نہیں دیتی۔
انہوں نے کہا کہ بخشش ہمارے اعمال سے نہیں بلکہ اللہ کریم کے کرم سے ہوگی۔ ایسا اعمال نامہ ہوگا کہ لوگ کہیں گے کہ کیسا اعمال نامہ ہے جس نے چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی نہیں چھوڑا، ہر عمل اس پر لکھا ہوا ہے۔ جزا و سزا کا انسانی مزاج پر بہت گہرا اثر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایمان کے جتنے حصے جن کی ہمیں ضرورت ہے، اللہ کریم نے وہ سارے ہمیں عطا فرمائے ہیں۔ ایمان کے بغیر کوئی انسانی تعمیر ہو ہی نہیں سکتی جس میں عدل ہو، انصاف ہو اور جسے اچھا اور اعلیٰ کہا جا سکے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ جو بھی اپنی خواہشات کے پیچھے چلا، وہ کسی نہ کسی بت کے سامنے سجدہ کرتا رہا۔ کہیں نہ کہیں مخلوق پر اپنی بڑائی اور اپنی حکمرانی کے دعوے کرتا رہا۔ اس کے خزانے ہی اس کے لیے وبال بنتے گئے۔
انہوں نے کہا کہ کامیابی وہ ہے، عزت وہ ہے جو اصول اور ضابطے پر ہوتی ہے، کسی کے سمجھنے اور کسی کے دعوے پر نہیں ہوتی۔ ساری دنیا بھی غلطی پر جمع ہو جائے تو بھی وہ غلطی ہی ہوگی۔ حق وہی ہے، عزت وہی ہے اور کامیابی وہی ہے جسے اللہ کریم نے کامیابی ارشاد فرمایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عزت صرف اس بات میں ہے جس کے بارے میں اللہ کریم فرما رہے ہیں کہ اس کام میں عزت ہے۔ اگر صرف دنیاوی کامیابی کو کامیابی سمجھا جائے گا تو پھر سب سے زیادہ کامیاب تو فرعون رہا، لیکن اس کا حشر عبرت کا نشان بنا۔ اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں امیر عبدالقدیر اعوان نے ملکی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
