ایمان کی علامت خوف اور امید کا توازن ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

برمنگھم: شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ جس انسان کے اندر اللہ سے امید اور خوف دونوں کی کیفیات موجود ہوں، وہی درحقیقت ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔

وہ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں دارالعرفان میں خواتین و حضرات کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی سورہ اعراف کی آخری آیات میں ذکرِ کثیر کا حکم دیا گیا ہے، جو ذکرِ خفی اور ذکرِ قلبی کے بغیر ممکن نہیں۔ جب انسان صبح و شام ذکر کرتا ہے تو وہ ایسی کیفیت حاصل کر لیتا ہے کہ ہر وقت اللہ کی یاد نصیب ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے کہا جاتا ہے “ہتھ کار ول، دل یار ول”، یعنی انسان دنیاوی معاملات میں مصروف ہو مگر دل اللہ کی طرف متوجہ رہے، یہی اصل کامیابی ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے ذکرِ الٰہی کی تین اقسام بیان کرتے ہوئے کہا کہ لسانی ذکر، عملی ذکر اور قلبی ذکر ہیں۔ لسانی ذکر تسبیح پڑھنے تک محدود ہوتا ہے اور عملی ذکر نیک اعمال تک، لیکن قلبی ذکر وہ ہے جو مسلسل جاری رہتا ہے اور دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ کی یاد کو زندہ رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ درود شریف ایک ایسی تسبیح ہے جو دونوں جہانوں کے لیے کافی ہے، تاہم انسان کو کبھی غرور میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ عاجزی اور انکساری کو ہمیشہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ کبر سے بچا جا سکے۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد، اتفاق اور بہتری کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔

Exit mobile version