جہلم شہر سمیت گردونواح میں کم عمر بچوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان بڑھنے لگا۔
تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ خریدنے اور پینے پر سختی سے پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود شہر میں سگریٹ نوشی کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
عوامی و سماجی تنظیموں کے عمائدین کا کہنا ہے کہ کم عمر بعض بچے اور طلبہ سگریٹ نوشی کا شوق پورا کرتے دکھائی دیتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی کے عادی بن جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ اور دیگر نشہ آور اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں کے دکاندار کم عمر بچوں کو باآسانی سگریٹ فروخت کر دیتے ہیں، جس کے باعث وہ اس لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ شہریوں نے شکایت کی کہ شہر بھر میں موجود پان شاپس اور دیگر دکانوں پر کھلے عام سگریٹ اور تمباکو نوشی والی اشیاء کم عمر بچوں کو فروخت کی جا رہی ہیں جو کہ حکومتی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
شہری و سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور بچوں کے والدین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ اس برائی کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔ مزید برآں متعلقہ اداروں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کے خلاف آگاہی مہم چلائیں تاکہ کم عمر بچوں کو اس نقصان دہ عادت سے باز رکھا جا سکے۔
