پنجاب حکومت پراپرٹی اونر شپ ایکٹ میں ترمیم پر رضامند

8
جہلم: پنجاب حکومت نے ایک اہم پیش رفت کے طور پر پراپرٹی اونرشپ ایکٹ میں ترمیم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس کے تحت عدلیہ کے اختیارات بحال کیے جا رہے ہیں۔
باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے اعتراضات کے پیشِ نظر اپنے مؤقف سے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے قانون میں بنیادی تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی مجوزہ ترامیم میں ریٹائرڈ سیشن ججز پر مشتمل ٹربیونلز کو ختم کر کے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونل ذمہ داریاں سونپنے کی تجویز شامل ہے۔ اس کے علاوہ قبضہ سے متعلق درخواستیں براہِ راست ضلعی کمیٹیوں کو بھیجنے کا اختیار ختم کر کے یہ اختیار سول جج کو دیا جائے گا، جبکہ ضلعی کمیٹیاں زیرِ التوا کیسز پر براہِ راست فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہوں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی ترامیم کے مطابق پراپرٹی اونرشپ قانون کے تحت کسی بھی درخواست کی سماعت کا فیصلہ سول جج کرے گا۔ وہی یہ طے کرے گا کہ آیا زیرِ سماعت کیس کو ضلعی کمیٹی کے پاس بھیجا جائے یا نہیں۔ اس سے قبل درخواست گزار یا کنوینر براہِ راست کیس کمیٹی کو منتقل کروا سکتا تھا، تاہم اب یہ اختیار صرف عدالت کے پاس ہو گا۔
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کے خلاف دائر درجنوں درخواستوں پر حکمِ امتناع جاری کیا تھا، جس کے بعد پنجاب حکومت نے معاملہ حل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی قانونی کمیٹی تشکیل دی۔
ذرائع کے مطابق اس کمیٹی کی سربراہی امجد پرویز کر رہے ہیں، جبکہ کمیٹی میں سیکرٹری قانون پنجاب اور دیگر قانونی ماہرین شامل ہیں۔ کمیٹی نے عدلیہ اور وکلا تنظیموں کے اعتراضات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون میں جوڈیشل ریویو کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ٹربیونل کے عبوری حکم کے خلاف بھی ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا سکے گا، جو اس سے قبل ممکن نہیں تھا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نئی مجوزہ ترامیم میں عدلیہ اور وکلا تنظیموں کو بھی آن بورڈ لیا جا رہا ہے، اور تمام فریقین کی مشاورت کے بعد قانون کو حتمی شکل دی جائے گی۔ حکومت پنجاب کا ماننا ہے کہ ان ترامیم کے بعد عدلیہ اور حکومت کے درمیان پائی جانے والی کشمکش کا تاثر ختم ہو جائے گا۔
ذرائع کے مطابق مسودہ جلد مکمل کر کے پراپرٹی اونرشپ ایکٹ میں باضابطہ ترمیم متعارف کروا دی جائے گی۔



