جہلم: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) ضلع جہلم کی جانب سے ایف بی آر کے اقدامات، پوائنٹ آف سیل (POS) نظام اور نجی طبی اداروں سے متعلق ٹیکس پالیسی کے خلاف ضلع بھر میں نجی کلینکس اور ہسپتالوں کی بندش کے بعد ٹیکس نظام میں مساوات اور پالیسی کے طریقہ نفاذ کے حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔
پی ایم اے کا موقف ہے کہ صحت کی خدمات بنیادی انسانی اور عوامی خدمت سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے انہیں محض ریٹیل کاروبار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ایسوسی ایشن نے نجی ہسپتالوں اور کلینکس پر POS نظام کے نفاذ، بھاری جرمانوں اور ٹیکس حکام کے اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ روز ایک پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم اے ضلع جہلم کے صدر ڈاکٹر ساجد علی ڈوگہ نے کہا کہ ڈاکٹرز اور طبی ادارے پہلے ہی مختلف نوعیت کے ٹیکسز اور اخراجات کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں، ایسے میں POS نظام اور جرمانوں کے ذریعے مزید دباؤ ڈالنے سے صحت کے شعبے کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نجی طبی شعبہ حکومت کا متبادل نہیں بلکہ صحت عامہ کے نظام میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے ٹیکس پالیسی مرتب کرتے وقت زمینی حقائق، مریضوں کے مسائل اور طبی شعبے کی نوعیت کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر ساجد علی ڈوگہ نے کہا کہ طبی خدمات کو دیگر کاروباری سرگرمیوں کے برابر رکھ کر ٹیکس پالیسی کا نفاذ مناسب نہیں۔ حکومت اور ایف بی آر کو چاہیے کہ طبی تنظیموں کے نمائندگان کے ساتھ بامقصد مذاکرات کیے جائیں اور ایسے قابلِ عمل طریقۂ کار پر اتفاق کیا جائے جس سے قومی خزانے کو ریونیو بھی حاصل ہو اور مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات بھی متاثر نہ ہوں۔
اس موقع پر پرائیویٹ ہسپتال سیکٹر کے ضلعی صدر ڈاکٹر تفسیر حسین گوندل نے کہا کہ نجی ہسپتال اور کلینکس پہلے ہی بجلی، ادویات، طبی آلات، عملے کی تنخواہوں اور دیگر بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں POS نظام کے ساتھ بھاری جرمانوں اور پیچیدہ ٹیکس قواعد کا نفاذ نجی طبی اداروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے، جس کا بالواسطہ اثر مریضوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر اور متعلقہ حکام طبی شعبے کے نمائندگان کو اعتماد میں لے کر ٹیکس پالیسی پر نظرثانی کریں اور ایسا شفاف، آسان اور قابلِ عمل نظام تشکیل دیں جو ڈاکٹرز اور طبی اداروں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولی ضروری ہے، تاہم اس کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس میں شعبۂ صحت کو صرف کاروباری ریٹیل سیکٹر کے طور پر دیکھنے کے بجائے اس کی عوامی خدمت کی حیثیت کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع اور نظام کو منصفانہ بنانا چاہتی ہے تو تمام بڑے شعبوں کو یکساں اصولوں کے تحت ٹیکس نظام میں لایا جانا چاہیے۔ ان حلقوں کے مطابق عام شہری، چھوٹے تاجر اور کاروباری طبقہ مختلف نوعیت کے ٹیکس ادا کر رہا ہے، لہٰذا نجی شعبے میں کام کرنے والے بڑے ہسپتالوں، کلینکس اور تشخیصی لیبارٹریوں کے ساتھ ساتھ نجی سکولوں، کالجوں اور مختلف شہروں میں قائم ان کے برانچ نیٹ ورک کو بھی قانون کے مطابق ٹیکس نظام میں مؤثر طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
عوامی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ ٹیکس کا اصول کسی ایک شعبے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ آمدن اور کاروباری سرگرمی کی نوعیت کے مطابق یکساں، شفاف اور قابلِ عمل ٹیکس پالیسی ہونی چاہیے، تاکہ ٹیکس کا بوجھ صرف محدود طبقات یا عام شہریوں تک محدود نہ رہے اور قومی خزانے میں زیادہ سے زیادہ ریونیو جمع ہو سکے۔
ان حلقوں کے مطابق اگر نجی طبی اداروں یا دیگر شعبوں کے لیے ٹیکس اور POS سے متعلق قواعد نافذ کیے جاتے ہیں تو حکومت کو نجی تعلیمی اداروں سمیت دیگر بڑے سروس سیکٹرز کے لیے بھی واضح، یکساں اور شفاف ٹیکس فریم ورک وضع کرنا چاہیے، تاکہ ٹیکس نظام میں مساوات، شفافیت اور عوامی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔
واضح رہے کہ ایف بی آر کی جانب سے POS اور ڈیجیٹل نظام کا مقصد ٹیکس نظام میں دستاویز بندی اور ریونیو بیس کو وسیع کرنا بتایا گیا ہے، جبکہ متعلقہ شعبوں کے نمائندگان نظام کے بنیادی مقصد کے بجائے اس کے طریقۂ نفاذ، جرمانوں اور عملی مشکلات پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔
طبی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ معاملے کو محض ٹیکس وصولی کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے ایسا متوازن حل نکالا جائے جس میں قومی ریونیو کے مفاد کے ساتھ مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور ڈاکٹرز و طبی اداروں کے جائز تحفظات کو بھی یکساں اہمیت حاصل ہو۔
