جہلم میں بیوی، سالے اور سالی کا ساتھی کے ہمراہ شوہر پر مبینہ حملہ، سربازار وحشیانہ تشدد، بازو ٹوٹ گیا

جہلم میں بیوی، سالے اور سالی کا ساتھی کے ہمراہ شوہر پر مبینہ حملہ کر کے سربازار وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، تشدد سے شوہر کا بازو ٹوٹ گیا، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ، ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم میں تھانہ صدر کے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں بیوی کا بھائی، بہن اور ایک ساتھی مل کر شوہر پر مبینہ حملہ آور ہوگئے۔ یہ واقعہ سربازار میں پیش آیا جہاں شوہر پر وحشیانہ تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کا بازو ٹوٹ گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، لیکن ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔

اورنگزیب ولد سجاول خان نے پولیس کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کی بیوی روزینہ کے روشن گجر کے ساتھ مبینہ تعلقات ہیں، جس کے بارے میں اس نے بار بار تنبیہ کی تھی، لیکن اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے افراد باز نہیں آئے اور اس پر ہر مرتبہ تشدد کیا گیا۔

اورنگزیب نے مزید بتایا کہ اس کی سالی انیلہ کے پولیس میں مضبوط تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے اس پر ہمیشہ دباؤ ڈالا جاتا رہا۔ 6 مارچ کو کیس کے سلسلے میں جب وہ کچہری جا رہا تھا، اس کی بیوی روزینہ، سالی انیلہ، سالہ یاسر اور روشن گجر عرف بھولا نے اس کا راستہ روکا اور چھریوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔ اس پر سر بازار تشدد کیا گیا اور ڈنڈے مار مار کر اس کا بازو ٹوٹ گیا۔

اورنگزیب نے اپنی جان بچانے کے لیے منت سماجت کی اور کسی طرح وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ اپنے گھر کو بچانا چاہتا تھا جبکہ اس کی بیوی روشن گجر کی محبت میں اس سے علیحدگی چاہتی تھی، لیکن وہ اپنے بچوں کے لیے اسے چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔

پولیس نے میڈیکل رپورٹ حاصل کرنے کے بعد مقدمہ درج کر لیا ہے، لیکن ابھی تک ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔

Exit mobile version