سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ممبران اسمبلی کی طرح تین گنا اضافہ کیا جائے، پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن جہلم

جہلم: بدترین مہنگائی کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی وہی اضافہ کیا جائے جو حالیہ برسوں میں ممبرانِ اسمبلی کو دیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار پنجاب ایجوکیٹرزایسوسی ایشن جہلم کے عہدیداران نے ایک اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں کیا۔ اجلاس پنجاب ایجوکیٹرزایسوسی ایشن جہلم کے ضلعی صدر احسان الٰہی شاکر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں انزک محمود، مبشر عباس شاہد، اظہر سلطان، محمد رفیع، سعید اختر، شاہد سکندر، وقار کاظمی اور جواد حسین نے شرکت کی۔

پنجاب ایجوکیٹرزایسوسی ایشن جہلم کے عہدیداران نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تین گنا اضافہ کیا جائے، تاکہ وہ موجودہ معاشی چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔

شرکائے اجلاس نے کہا کہ ایک طرف حکومت نے مجموعی طور پر اپنی مراعات اور تنخواہوں میں تین گنا سے زائد اضافہ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب سرکاری ملازمین کی پنشن اور لیو انکیشمنٹ جیسے بنیادی حقوق کو محدود کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امتیازی سلوک ناقابل قبول ہے اور اس پر شدید احتجاج کیا جائے گا۔

پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ آئی ایم ایف جن اخراجات میں کمی کی بات کرتا ہے، وہ دراصل حکمرانوں کے غیر ضروری پروٹوکول، شاہانہ اخراجات اور عیاشیوں سے متعلق ہے نہ کہ سرکاری ملازمین کی محدود تنخواہوں سے۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی انہی ملازمین کی محنت سے بہتر ہوتی ہے، اور ان کی مالی مشکلات کو نظر انداز کرنا نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ معاشرتی ناانصافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر بجٹ سے قبل حکومت یہ بہانہ بناتی ہے کہ خزانہ خالی ہے اور آئی ایم ایف کی پابندیاں ہیں، لیکن اب ہم ان جوازات کو تسلیم نہیں کریں گے۔ مہنگائی کی تیز رفتار لہر نے عام ملازمین کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے، اس لیے تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم تین گنا اضافہ کیا جائے، سروس سکیلز کو ازسر نو مرتب (Revise) کیا جائے جبکہ پنشن اور لیو انکیشمنٹ کو پرانی شرح کے مطابق بحال کیا جائے تاکہ سرکاری ملازمین کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ مزید دلجمعی سے قومی اداروں کی خدمت کر سکیں۔

Exit mobile version