یورپ میں نادرا کے آن لائن سسٹم سے کمیونٹی پریشان

برسلز: یورپ میں نادرا کے آن لائن سسٹم کی کارکردگی نے لوگوں کو انتہائی پریشان کر کے رکھ دیا۔
نادرا کی ویب سائٹ پر جاکر دیکھیں تو اسے جتنا آسان بتایا جاتا ہے عملی طور پر وہ اتنی ہی مشکل ہے۔ پہلے تو بہت سے ٹیلی فونز کیلئے یہ سسٹم سپورٹ ہی نہیں کرتا اس کیلئے ہر صورت کمپیوٹر چاہئے۔ اس کے بعد اکاؤنٹ بنانے کے عمل میں دیئے گئے ای میل ایڈریس کو سسٹم قبول نہیں کرتا۔ اگر قبول ہو بھی جائے تو پھر اس کے بعد ویری فکیشن کا عمل شروع ہوتا ہے۔
ایک صارف کے ساتھ تو یہ ہوا کہ اس نے چوری ہوجانے والے نائکوپ کارڈ کے دوبارہ حصول کیلئے پراسیس شروع کیا تو اس کی ای میل میں ویری فکیشن کوڈ موجود ہے لیکن رجسٹریشن جاری، لنک پر کلک کریں ، لکھے ہونے کے ساتھ وہاں کوئی لنک ہی موجود نہیں۔ اب نہ یہ اکاؤنٹ آگے بڑھتا ہے اور نہ ہی وہ اپنا اکاؤنٹ دوبارہ بنا سکتا ہے۔
اکثر لوگوں کو نادرا ویب سائیٹ پر جا کر کام کرنا بوجھ لگتا ہے کیونکہ ہر کڑی آسانی سے اگلی کڑی سے نہیں ملتی اور بہت سا وقت برباد ہوتا ہے۔ دوسری جانب آن لائن سسٹم ہونے کی وجہ سے سفارت خانے کا عملہ بھی کسی کی مدد نہیں کر سکتا۔
اس حوالے سے نادرا کے یورپین صارفین کا کہنا ہے کہ نادرا نے اگر آن لائن سسٹم بنایا ہے تو پھر اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ یہ قابل اعتبار طور پر فنکشنل بھی رہے اور وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ ذہنی تکلیف کا سبب نہ بنے۔


