جہلم شہر اور گردونواح میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی ناقص اور مضر صحت مشروبات کی فروخت میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
سڑکوں، گلی محلوں، بازاروں اور چوراہوں پر غیر معیاری مشروبات کھلے عام فروخت کیے جا رہے ہیں، جن کے باعث مختلف اقسام کی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ان مشروبات کی تیاری میں استعمال ہونے والا پانی انتہائی غیر معیاری اور اکثر نلکوں سے براہِ راست بھرا جاتا ہے، جو صفائی کے بنیادی اصولوں پر پورا نہیں اُترتا۔ مختلف جعلی برانڈز یا مشہور کمپنیوں کے مشروبات سے ملتے جلتے ناموں کا استعمال کر کے شہریوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔
ان مشروبات کو عارضی طور پر ذائقہ دار اور فرحت بخش ظاہر کیا جاتا ہے، مگر ان کے استعمال کے بعد پیٹ کی بیماریاں، گلے کی خراش، ہیضہ اور دیگر موسمی بیماریاں لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
سڑکوں کے کنارے سردائی، لیموں پانی اور دیگر مشروبات فروخت کرنے والے افراد نے عارضی سٹالز لگا رکھے ہیں، جہاں صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سادہ لوح افراد خاص طور پر بچے اور بزرگ ان مشروبات کا استعمال کر کے اپنی صحت داؤ پر لگا رہے ہیں۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان غیر معیاری مشروبات کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور بلاتفریق کارروائی کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ عوام کو بیماریوں سے بچایا جا سکے۔
