شدید گرمی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی

جہلم شہر سمیت گردونواح میں شدید گرمی اور حبس کے دوران اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی جانب سے مبینہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، بار بار ٹرپنگ اور تکنیکی بنیادوں پر بجلی کی بندش نے شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی روز سے جہلم شہر اور مضافاتی علاقوں میں دن اور رات کے مختلف اوقات میں بغیر پیشگی اطلاع بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری ہے۔ کبھی ٹیکنیکل فالٹ، کبھی اپ گریڈیشن اور کبھی دیگر وجوہات بتا کر گھنٹوں بجلی معطل رکھی جا رہی ہے، جس سے گھریلو، تجارتی اور دفتری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور حبس میں بجلی کی بندش نے بزرگوں، خواتین، بچوں اور مریضوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ پنکھے، ایئر کنڈیشنرز، واٹر کولرز اور دیگر برقی آلات بند ہونے سے لوگ شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہیں، جبکہ متعدد افراد راتیں جاگ کر گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
صارفین کا کہنا ہے کہ بھاری بھرکم بجلی کے بل ادا کرنے کے باوجود انہیں مسلسل بجلی کی بندش کا سامنا ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے مزید بتایا کہ بجلی کی بار بار آنکھ مچولی کے باعث گھروں اور کاروباری مراکز میں نصب برقی آلات، فریج، پنکھے، ٹی وی اور دیگر قیمتی سامان بھی خراب ہو رہا ہے، جس سے انہیں لاکھوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مساجد، مدارس اور تعلیمی ادارے بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔ پانی کی فراہمی معطل ہونے کے باعث نمازیوں کو وضو میں دشواری پیش آ رہی ہے، جبکہ مدارس میں طلبہ و طالبات کے روزمرہ معمولات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اسی طرح اسپتالوں میں بجلی کی بندش سے طبی خدمات متاثر ہونے اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
صارفین نے الزام عائد کیا کہ شکایات کے اندراج کے لیے آئیسکو کمپلینٹ آفس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اکثر فون کالز موصول نہیں کی جاتیں یا بروقت رہنمائی فراہم نہیں کی جاتی، جس سے عوام کی پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے۔
متاثرہ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بار بار ٹرپنگ کا سلسلہ فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
شہریوں نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر توانائی، چیف ایگزیکٹو آئیسکو، کمشنر راولپنڈی ڈویژن، ڈپٹی کمشنر جہلم اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے، بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور صارفین کی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔



