وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کے نام کھلا خط

کھلا خط لکھنا یا کوئی اخباری تحریر سپردِ قلم کرنا 37 سال سے صحافت کے میدانِ کارزار میں ایک معمول ہے۔ زیرِ نظر سطور بھی ایک ایسی ہی قلمی کاوش کے طور پر کمپیوٹر کے کی بورڈ پر انگلیاں چل رہی ہیں۔ آغاز ایک خوبصورت شعر سے کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، جس کی وجہ وہ امید ہے کہ جیسے گزشتہ دورِ حکومت میں راقم کی ایسی ہی قلمی تحریک اس حد تک کامیاب رہی کہ ضلع جہلم سے منتخب ہونے والے ایک ایم این اے، سابق وفاقی وزیر کے نام ایک کھلا خط اسی معاصر “جہلم اپڈیٹس” کی زینت بنا، جسے پڑھ کر وفاقی وزیر موصوف نے راقم الحروف کو اپنے دفتر سے نہ صرف ٹیلی فون کیا بلکہ اپنے سماجی فلاحی گروہ کے ساتھ اپنی وزارت کے دفتر میں ملاقات کی دعوت دے دی اور اپنے علاقے کے مسائل پر گفتگو کا بہترین موقع فراہم کیا۔
عین اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ شعر پیش کیا جا رہا ہے کہ شاید یہ خط بھی مخاطب شخصیت کی نظر سے گزرے اور وہ اس قلمی محرک کو اس قابل تصور کرے کہ رابطہ کر لے۔ اب ملاحظہ فرمائیے پہلے یہ شعر:
نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے
کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں
قصہ مختصر یہ کہ اس خط کو “کھلا خط” کا نام اس لیے دیا جا رہا ہے کہ یہ صرف ایک تحریر کی حد تک نہیں بلکہ اس خط کی شکل میں ایک تاریخی تصویر کے ساتھ ساتھ ایسے حقائق سے آگاہی موجود ہے کہ قاری خود تصور کرے گا کہ یہ کوئی عام خط نہیں ہے، یا اگر مخاطب تک نہ بھی پہنچ سکے تو کوئی دیگر قاری تو پڑھے گا جو تحریری حقائق سے متاثر ہو کر مخاطب تک پہنچانے کی کاوش میں شریک ہونا چاہے گا۔
یہ خط قومی اسمبلی کے انتخابی حلقہ این اے 60 کے مغربی کونے میں ایک تاریخی آبادی پڑی درویزہ کے ان مکینوں کی طرف سے تحریر کیا جا رہا ہے جن کی رائے بطور ووٹ تو ہر انتخاب کے موقع پر حاصل کر لی جاتی ہے، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ جس تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کی یہ آبادی حامل ہے، اس آبادی کے بنیادی مسائل کو کبھی بھی کسی بڑے سیاسی فورم پر اس تقاضے کے مطابق زیرِ غور یا زیرِ بحث تک نہیں لایا گیا۔
اس مرتبہ بھی سابقہ روایات کے مطابق ہی سرگرمیاں جاری ہیں، کیونکہ عرصہ دو سال سے کوئی خاطر خواہ ترقیاتی یا فلاحی منصوبہ پڑی درویزہ کے لیے منظور نہیں ہو سکا۔ وجہ جو محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ یہاں کے بنیادی مسائل کے متعلق ممبر قومی اسمبلی حلقہ این اے 60، جو نہ صرف ایم این اے کے عہدے پر فائز ہیں بلکہ دو قومی سطح کی وزارتوں، پاکستان ریلوے اور وفاقی وزارتِ خزانہ کے وزیرِ مملکت ہونے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں، کے علم میں لانے کی کوشش تک ہی نہ کی گئی۔ یعنی ذاتی مفاد یا بااثر پن کو قائم رکھنے تک تعلقات محدود رکھے گئے۔
جہاں تک پڑی درویزہ کی تاریخ کا تعلق ہے تو انتہائی قابلِ صد غور ہے کہ “مورخِ جہلم انجم سلطان شہباز” کی مرتب کردہ کتاب “تاریخِ جہلم” میں خصوصی مضمون موجود ہے کہ مذکورہ آبادی پڑی درویزہ تین صدیاں قبل 1611ء میں آباد ہونا شروع ہوئی۔ چار صدیوں سے پہلے کا تو اتنا علم نہیں، لیکن جو ہے وہ واقعی غور اور توجہ کے قابل ہے، کیونکہ اس گاؤں میں نامعلوم تاریخی ہستیاں بھی پیدا ہوئیں نیز یادگار تاریخی مقامات بھی موجود ہیں۔
ان تاریخی مشاہدات کے جھروکوں میں گاؤں کے جنوب میں ایک بڑا تعمیر شدہ تالاب ہے، جس پر پڑی درویزہ اور گرد و نواح کی گھریلو خواتین عرصہ تک کپڑے دھوتی رہیں بلکہ آج تک یہ روایت جاری ہے۔ پرانے بزرگوں کے مطابق یہ تالاب ایک ہندو خاتون نے اپنی ذاتی گرہ سے تعمیر کرایا تھا اور اس دور میں کارکنان و مزدوران کو یومیہ اجرت ادا کرتی تھی۔
اب اس نامعلوم دور کی دوسری یادگار پر بات ہو جائے تو یہ کھلا خط قارئین کی دلچسپی میں مزید اضافہ کا باعث بنے گا۔ یہ ہے پڑی درویزہ کے شمال میں بڑی سڑک تک جانے والے لنک روڈ کے ساتھ ایک کنواں، جس میں سیڑھیاں تعمیر ہیں تاکہ پیدل مسافر جب تھکاوٹ محسوس کریں تو آرام سے اس “باؤلی” نامی کنویں سے پانی کی سہولت سے فیض یاب ہو سکیں۔ یہ بھی ایک خوبصورت تاریخی نامعلوم یادگار ہے۔
پھر اس جانب تھوڑے سنگلاخ چٹانی علاقے میں ایک قدرتی چشمہ “چوا” ہے، جو کسی خوبصورت فکر کے حامل فرد نے تعمیر کرایا اور ساتھ باقاعدہ غسل خانے تعمیر شدہ ہیں، جن میں گاؤں کے لوگ آج بھی صبح شام غسل کی سہولت سے استفادہ کرتے ہیں۔
بلال اظہر کیانی صاحب کے علم میں یہ بات بھی ہونی چاہیے کہ اسی پڑی درویزہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اختتام پر، یعنی 1919ء میں پڑی درویزہ کے رہائشی “دہونی چند” کے گھر سابق وزیرِ اعظم انڈیا اندر کمار گجرال کی پیدائش ہوئی۔
پھر تیسری دہائی کے اختتامی سالوں میں راجہ کفایت علی خان کے گھر راجہ عنایت اللہ خان پیدا ہوئے، جو اپنی زندگی میں محکمہ پولیس میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کے عہدے تک پہنچے اور اپنی کارکردگی کے عوض موصوف کو حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1960ء کی دہائی کے دوران “ستارۂ قائدِ اعظم” سے نوازا گیا۔
پھر زندگی ایک بڑی گردش کا نام ہے۔ خوشی کے ساتھ غمی انسانی زندگی کا تقاضا ہے۔ اسی محترم شخصیت کا ایک بیٹا عطا اللہ خان پی آئی اے میں پائلٹ کے عہدے تک ارتقائی منازل طے کرنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن شومئی قسمت سے معروف پائلٹ کا طیارہ 1955ء تا 1960ء کے درمیانی عرصے میں گلگت کی پہاڑیوں میں سخت حادثے کا شکار ہو گیا، کہ موصوف کی میت تک بھی بازیاب نہ ہو سکی، یعنی حادثاتی شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے۔
تو کیپٹن عطا اللہ خان شہید کے والدِ گرامی سابق ایس پی راجہ عنایت اللہ خان ستارۂ قائدِ اعظم نے حکومت کی طرف سے ملنے والے معاوضے اور اپنی ذاتی ملکیتی اراضی 8 کنال 15 مرلے کا عطیہ دے کر پڑی درویزہ میں ڈویژنل کونسل راولپنڈی کی طرف دی گئی سرکاری گرانٹ سے 1961ء میں کیپٹن عطا اللہ خان ڈسٹرکٹ کونسل سول ڈسپنسری قائم کر کے اپنی یادوں کو دوام بخشنے کی ایک کاوش کی، جو اس دور میں موجودہ تحصیل صدر مقام سوہاوہ سے چکوال تک ایک بڑے ہسپتال کی حیثیت رکھتی تھی۔
ایم این اے بلال اظہر کیانی کو یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ جس شخصیت کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس قدر انسان دوست تھی کہ پہلے پانچ سالوں میں مذکورہ ڈسپنسری کی عمارت تعمیر ہوئی، جس میں خوبصورت قسم کے ڈاکٹر اور لیڈی ڈاکٹر بلاکس تعمیر کیے گئے، پھر اگلے تین سالوں میں عملہ اور معاون عملے کے لیے رہائش گاہیں تعمیر ہوئیں، اور 27 اپریل 1968ء کو اس وقت کے سی ایس پی کمشنر راولپنڈی ڈویژن سید محمود الحسن شاہ کے دستِ مبارک سے افتتاح کیا گیا۔ یہ یادگار تقریب تھی۔ یہ قلمی تو ابھی اپنے بچپن کے سالوں میں تھا، اتنا یاد ہے کہ یہ کاتب اپنے والدِ گرامی کی انگلی کے سہارے ڈسپنسری کے بیرونی علاقے تک گیا، جہاں گاڑیوں کا جمِ غفیر تھا جس کا بیان ممکن نہیں۔
یادیں تو ختم نہیں ہو سکتیں۔ بات یہیں تک نہیں بلکہ 1964ء میں جب حکومتِ پاکستان کی طرف سے یونین کونسل کے قیام کا عمل میں آیا تو راجہ عنایت اللہ خان ہی کی علاقہ عوام دوست تحریک پر یونین کونسل پڑی درویزہ کے نام سے منظوری حاصل کی گئی، جو بعد میں بوجوہ پڑی درویزہ کی تجارتی اور جغرافیائی مرکزیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر قائم کر دی گئی، اور تاریخ گواہ ہے کہ 1983ء تک اس عمارت پر یونین کونسل پڑی درویزہ کا نام کندہ رہا، پھر بعد میں یونین کونسل پھلڑے سیداں کا نام لکھا گیا۔
اس لیے ممبر قومی اسمبلی حلقہ این اے 60 کو باخبر رہنا چاہیے کہ اگر کسی موقع پر کسی نئی یونین کونسل کے قیام کی خواہش ظاہر کی جائے تو مکتوب الیہ ایم این اے بلال اظہر کیانی کو ہمیشہ تاریخی و جغرافیائی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یاد رکھنا چاہیے کہ یونین کونسل کا قیام ترجیحی بنیادوں پر مرکزی گاؤں پڑی درویزہ کا ہی بنیادی حق ہے۔
اب راجہ عنایت اللہ خان کی تحریک پر پڑی درویزہ کو مزید کیا ملا، تو محترم بلال اظہر کیانی نوٹ کریں کہ موجودہ لنک روڈ جو دیہی ترقیاتی پروگرام کے تحت تعمیر ہوئی اور جس کا ابتدائی افتتاح اس وقت کے سی ایس پی کمشنر راولپنڈی ڈویژن مرزا رفیق عنایت ستارۂ قائدِ اعظم نے بتاریخ 26 ستمبر 1969ء کو محسنِ پڑی درویزہ و علاقہ راجہ عنایت اللہ خان کی موجودگی میں کیا، اسی طرح 35 کنال کے قیمتی قطعہ اراضی پر گورنمنٹ ہائی اسکول پڑی درویزہ تعمیر و قائم کرایا گیا۔
گاؤں کے بالکل وسط میں جو آبائی رہائش گاہ تھی، اس کو بھی عوامی انسان دوستی کے جذبے سے سرشار پڑی درویزہ کے ہیرو، محسنِ مذکور نے دینی درسگاہ کا درجہ دے دیا، اور عرصہ دراز تک 60 سال امامت کے فرائض انجام دینے والے مولانا زین العابدین مقامی بچوں کو دینی درس سے نوازتے رہے۔
1970ء کی دہائی کے آغاز سے ہی اعلیٰ سیرت انسان سابق ایس پی راجہ عنایت اللہ خان کے ساتھ کچھ ناقابلِ بیان واقعات پیش آئے کہ پڑی درویزہ و علاقہ بھر کی محسن، ہیرو شخصیت کو مع خاندان اپنی آبائی دھرتی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنا پڑا۔
بس اب ممبر قومی اسمبلی بلال اظہر کیانی کے علم کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس بہترین طبی و تعلیمی مرکز پڑی درویزہ کی ترقی مکمل طور پر رکی تو نہیں، لیکن جس ترقی کی یہ آبادی متقاضی تھی وہ نہ ہو سکی۔ یونین کونسل کا دفتر تو پہلے ہی منتقل کر لیا گیا، ساتھ ہی ہسپتال نما کیپٹن عطا اللہ خان ڈسٹرکٹ کونسل سول ڈسپنسری پڑی درویزہ کو ایک ڈسپنسری تک محدود کر دیا گیا، جو آج ایک ڈسپنسر تک محدود ہے، حالانکہ رقبہ 8 کنال 15 مرلے تک ہے۔
بعد ازاں 1985ء میں پڑی درویزہ میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام ایک واٹر سپلائی اسکیم منظور و تعمیر ہوئی، جس کے نتیجے میں لگاتار 17 سال تک یہ آبادی پانی کی سہولت سے استفادہ کرتی رہی، جو بوجوہ بند ہو گئی اور اب عرصہ 22 سال سے مکمل طور پر غیر مؤثر بند پڑی ہے۔
مقامی سطح پر قائم سماجی کارکنان کے ایک فلاحی گروپ کی کوششوں کے نتیجے میں 2018ء میں شاطرانہ سیاسی چال سے واٹر سپلائی کی بحالی کے نام پر نصب کی گئی ایک موٹر، جس کے لیے بجلی کا میٹر بھی نصب کرایا گیا، آج اس بجلی میٹر کا ماہانہ بل جو سب ڈویژنل آفیسر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سوہاوہ کے نام آتا ہے، مذکورہ فلاحی گروپ اپنی ذاتی گرہ سے ادا کر رہا ہے، جس کی محکمہ مذکور کو کوئی فکر تک نہیں۔
گزشتہ سال اسی فلاحی گروپ کی کاوشوں سے گورنر پنجاب سردار سلیم خان کو مغلیہ تنظیم جہلم کے زیرِ اہتمام کنونشن کے موقع پر واٹر سپلائی کی بحالی کے لیے ایک تحریری درخواست دی گئی، تو مبلغ 12 کروڑ روپے کی خطیر گرانٹ کا سلسلہ چل نکلا، لیکن تاحال اس کا بھی کوئی علم نہیں کہ یہ گرانٹ کس مرحلے پر ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ اس کھلے خط کے تناظر میں کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں، یا سوالیہ نشان تک ہی باقی رہے گا۔
اسی طرح تاریخی و جغرافیائی طور پر تجارتی مرکز ہونے کے ناتے چاروں بڑے داخلی راستے آج بھی کچے پڑے ہیں۔ ہر گلی یا راستہ حقیقی طور پر 25 فٹ تک کشادہ ہے، لیکن کم از کم 12 فٹ تک پختہ چوڑا اور ڈھائی سے تین ہزار فٹ تک طویل ہے، جس کی پختگی کے لیے ازحد خصوصی گرانٹ کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی ایک منصوبہ بھی عالی جناب محترم بلال اظہر کیانی کی وساطت سے چل پڑے تو تاریخ ازبر ہو سکتی ہے۔
تحریر: پروفیسر افتخار محمود
پڑوی درویزہ، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم
فون نمبر 03065430285 – 03015430285
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



