دنیا کے لالچ میں صحیح دین کا بیان نہ کرنا درست عمل نہیں ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ دنیا کے لالچ میں صحیح دین کا بیان نہ کرنا درست عمل نہیں۔ جس شخص کو اللہ کریم نے دین کا علم عطا فرمایا ہے، اگر وہ اپنے ذاتی لالچ یا لوگوں کو خوش کرنے کے لیے حق بات بیان کرنے سے گریز کرے گا تو اسے اس حوالے سے جوابدہ ہونا ہوگا۔
گزشتہ روز ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ صاحبِ اختیار اپنے اختیار کے مطابق جوابدہ ہوگا۔ جھوٹی تعریف اور جھوٹی انا کو دنیا سے ساتھ لے کر جانا عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور وہاں کوئی سفارش اس عذاب سے بچانے والی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جسے اللہ کریم نے دین کا علم عطا فرمایا ہے، اگر وہ لگی لپٹی بات کرے گا تو اس سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنے لالچ کی خاطر حق بیان نہیں کیا اور لوگوں کو خوش کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمارے لباس، ہماری خوراک اور ہمارا رہن سہن اغیار جیسا ہو چکا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی انہی جیسے نظر آئیں، تو پھر حشر بھی انہی کے ساتھ ہوگا جن کی پیروی ہم کریں گے۔ انہوں نے تلقین کی کہ جیسے بھی حالات ہوں، ان پر صبر کیا جائے اور اللہ کریم سے مدد مانگی جائے۔ حالات سے تنگ آ کر اللہ اور اس کے نبی ﷺ کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ جہاں جو شخص موجود ہے، اسے چاہیے کہ حق کا ساتھ دے اور حق کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرے۔ جتنا کسی کے پاس اختیار ہے، اتنا ہی وہ ذمہ دار ہے۔ جس کا کسی دوسرے پر اختیار نہیں، اس کا بھی اپنے وجود پر اختیار ہے اور وہ اپنے عمل کا جوابدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج یہ رواج بن گیا ہے کہ لوگ برائی کرنے کے بعد اس پر اتراتے بھی ہیں اور اسے لوگوں میں بیان کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اللہ کریم فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے، ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔ جب بندہ مسلسل برائی کرتا رہتا ہے تو برائی اس کے مزاج میں رچ بس جاتی ہے، پھر وہ اسی برائی پر فخر کرنے لگتا ہے اور یوں معاشرے کی خرابی کا سبب بنتا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ آج ہم نے اپنی غمی اور خوشی میں رواجات کو اس قدر داخل کر لیا ہے کہ ہمیں یہ خوف رہتا ہے کہ اگر کوئی رسم پوری نہ کی تو معاشرے میں ہماری عزت خراب ہو جائے گی۔ ان رسومات کو پورا کرنے کے لیے لوگ مقروض ہو جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جس شخص کے فوت ہونے پر ہم قرض لے رہے ہوتے ہیں، اس کی زندگی میں کبھی اسے یہ پوچھنے کی زحمت بھی نہیں کرتے کہ وہ کس حال میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی راہنمائی یہی ہے کہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے جائیں۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں اور حق کو سمجھنے، اسے بیان کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے ملکی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
دارالعرفان منارہ میں دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع
یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں 3 اور 4 اکتوبر، بروز ہفتہ اور اتوار دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ پروگرام کے دوران حضرت شیخ المکرم مدظلہ العالی اتوار کے روز صبح 11 بجے خطاب فرمائیں گے، جبکہ اجتماعی دعا بھی ہوگی۔
مرکز کی جانب سے اس بابرکت پروگرام میں شرکت کے لیے دعوتِ عام دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اہلِ علاقہ اور عقیدت مند اجتماع میں شامل ہو کر اپنے دلوں کو برکاتِ نبوت ﷺ سے منور کریں۔



