علاقائی صحافت میدانِ جنگ میں بغیر ڈھال اُترنے کے مترادف ہے۔ چوہدری عابد محمود، عامر کیانی

جہلم پریس کلب کے چیئرمین چوہدری عابد محمود اور صدر الیکٹرانک میڈیا عامر کیانی نے کہا ہے کہ علاقائی صحافت میدان جنگ میں بغیر ڈھال اُترنے کے مترادف ہے، جہاں صحافی کے پاس صرف قلم، کیمرہ اور سچ کا ہتھیار ہوتا ہے اور اسے اس سچ کی قیمت بھاری طور پر چکانی پڑتی ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے ایک وفد سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھوٹے شہروں، اضلاع، تحصیلوں اور قصبات میں کام کرنے والے صحافیوں کا دائرہ کار محدود ہوتا ہے، لیکن ان کو ہر لمحہ بیشمار خطرات، دباؤ، اور چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک چھوٹی سی خبر یا بظاہر سادہ کوریج بھی کسی صحافی کے لیے طاقتور دشمن پیدا کر سکتی ہے۔ ہر گلی، ہر محلہ ایک نیا محاذ ہوتا ہے جہاں صحافی کو غیر جانب داری، سچائی، اور احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔
چوہدری عابد محمود اور عامر کیانی نے مزید کہا کہ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ صحافی اپنے ہی معاشرے میں اجنبی بن جاتا ہے۔ جس کے لیے وہ آواز بلند کرتا ہے، وہی مطلب براری کے بعد شک کی نگاہوں سے اسے دیکھتا ہے۔ اس شعبے میں مشکور ہونے والے افراد آٹے میں نمک کے برابر اور ناراض ہونے والوں کی تعداد بے شمار ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو تنہائی، مخالفت، خطرے اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہ شعبہ ان کے لیے صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن اور مقصدِ حیات ہوتا ہے۔
دونوں صحافیوں نے حکومت اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو تحفظ، عزت اور سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ بلا خوف و خطر آزادانہ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ جاری رکھ سکیں۔



