جہلم میں پابندی کے باوجود پولی تھین بیگز کا استعمال جاری

جہلم میں حکومتی پابندی کے باوجود ضلع بھر میں اشیائے ضروریہ کی خرید و فروخت کے دوران ممنوعہ اور مضر صحت پولی تھین بیگز کا استعمال بدستور جاری ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کی صحت خطرے میں ہے بلکہ محکمہ ماحولیات کی ذمہ داران کی کارکردگی پر بھی گہرا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

جہلم شہر اور گردونواح میں دودھ، دہی، گوشت، سبزیوں اور پھلوں سمیت روزمرہ استعمال کی خوراک بھی خطرناک پولی تھین بیگز میں ڈال کر فروخت کی جا رہی ہے، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ اور زہر قاتل ہیں۔

شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ماحولیات کے ذمہ داران کی لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے دکاندار دیدہ دلیری کے ساتھ ممنوعہ بیگز کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ ماحولیات کی طرف سے عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے، اگر انتظامیہ واقعی سنجیدہ ہوتی تو آج شہر کے گلی کوچوں، بازاروں اور دکانوں میں ممنوعہ پولی تھین بیگز کی فروخت پر مکمل کنٹرول ہو چکا ہوتا۔

ماہرین صحت کے مطابق یہ بیگز ماحول، زیر زمین پانی، مٹی اور انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اور ان کے استعمال سے کینسر سمیت متعدد مہلک بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پولی تھین بیگز پر پابندی کو عملی طور پر نافذ کیا جائے اور ممنوعہ بیگز فروخت کرنے والے دکانداروں کی دکانیں سیل کی جائیں تاکہ شہری خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اب مزید مؤثر اور سخت اقدامات کے بغیر عوام کی حفاظت ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button