سول لائن روڈ پر ڈمپرز کی آزادانہ آمدورفت، ٹریفک پولیس اور متعلقہ اداروں کی خاموشی

جہلم میں ٹریفک پولیس، آر ٹی اے سیکرٹری اور موٹر وہیکل ایگزامینر کی عدم توجہی کے باعث سول لائن روڈ پر رات کے اندھیرے میں بھاری بھرکم ڈمپرز کی آزادانہ آمدورفت ایک بار پھر قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی عدم دلچسپی اور پراسرار خاموشی کے باعث اندرون شہر خصوصاً سول لائن روڈ جیسے حساس اور گنجان آباد علاقے میں ڈمپرز بلا روک ٹوک گزر رہے ہیں، جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔

چند ماہ قبل شہریوں کے شدید احتجاج اور بڑھتے ہوئے حادثات کے خطرے کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے اندرون شہر، بالخصوص سول لائن روڈ پر ڈمپرز کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد شہریوں نے سکھ کا سانس لیا تھا اور ٹریفک کی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی تھی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ نادیدہ قوتوں کی مبینہ مداخلت کے باعث یہ پابندی محض کاغذی کارروائی ثابت ہوئی اور ایک بار پھر رات کے وقت ڈمپرز نے شہر کی سڑکوں پر قبضہ جما لیا ہے۔

شہریوں کے مطابق تیز رفتار ڈمپرز نہ صرف ٹریفک قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ پیدل چلنے والوں، موٹر سائیکل سواروں، طلبہ، خواتین اور دیگر گاڑیوں کے لیے بھی مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔ خاص طور پر رات کے اوقات میں اندھیرے کے باعث حادثات کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں، جبکہ شور شرابہ اور سڑکوں کو پہنچنے والا نقصان الگ مسئلہ بن چکا ہے۔

عوامی حلقوں کا سوال ہے کہ اگر اندرون شہر ڈمپرز کے داخلے پر پابندی موجود ہے تو پھر یہ بھاری گاڑیاں کس کے اشارے اور کس کی اجازت سے سول لائن روڈ اور دیگر گنجان علاقوں سے گزاری جا رہی ہیں؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس، آر ٹی اے سیکرٹری اور موٹر وہیکل ایگزامینر کی جانب سے عملی اقدامات نہ ہونے سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ قوانین صرف کمزور طبقے کے لیے ہیں، جبکہ بااثر افراد کے لیے سب کچھ جائز ہے۔

عوامی اور سماجی حلقوں نے کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم طارق عزیز سندھو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں، سول لائن روڈ سمیت اندرون شہر ڈمپرز کے داخلے پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف کارروائی کریں تاکہ شہری کسی بڑے حادثے سے محفوظ رہ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button